شفافیت، نعرے بازی اور نیا پاکستان کے بلند و بانگ دعوؤں کی بنیاد پر اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے والی پاکستان تحریک انصاف کے دورِ حکومت کا عکس جب بھی مالیاتی حکمرانی کے آئینے میں دیکھا جاتا ہے، تو اصلاحات کے بجائے بدعنوانی کی نت نئی کہانیاں سامنے آتی ہیں۔ کوہستان اسکینڈل کا حالیہ ڈراپ سین اسی سلسلے کی ایک ایسی المناک کڑی ہے جس نے خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی سالہا سال پر محیط حکمرانی کے مالیاتی نظام، داخلی نگرانی اور مبینہ احتسابی نعروں کا پول مکمل طور پر کھول کر رکھ دیا ہے۔ سرکاری خزانے سے اربوں روپے کی مبینہ خردبرد کا یہ کیس محض چند ملازمین کی ہیرا پھیری نہیں بلکہ ایک پورے سیاسی و انتظامی فریم ورک کی ناکامی کا چیختا ہوا ثبوت ہے۔
کوہستان ویڈیو اور ترقیاتی فنڈز کی بندر بانٹ کے اس معاملے میں کمیونیکیشن اینڈ ورکس (سی اینڈ ڈبلیو) ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ کلرک قیصر اقبال کی مرکزی ملزم کے طور پر گرفتاری نے یہ ثابت کر دیا کہ صوبائی اداروں کے اندر کس بے باکی کے ساتھ جعلی چیک، مشکوک بینک اکاؤنٹس اور شاہانہ نکاسی کا کھیل کھیلا جا رہا تھا۔ اعجاز الحق اور کنٹریکٹر محمد زبیر جیسے کرداروں کی گرفتاری نے نیب کی تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا تو یہ بات واضح ہو گئی کہ اربوں روپے کا یہ بہاؤ محض ایک نچلی سطح کے کلرک کے بس کی بات نہیں ہو سکتا۔ کسی نچلے عملے کی اتنی جرأت بغیر کسی طاقتور سیاسی چھتری اور اعلیٰ انتظامی سہولت کاری کے ممکن ہی نہیں ہوتی۔
سب سے تشویشناک اور سنگین پہلو یہ ہے کہ اس مالیاتی دلدل کی پی ٹی آئی کی اعلیٰ سیاسی قیادت سے جڑتے دکھائی دیتے ہیں۔ سکیورٹی اور نیب تحقیقات کے دائرے میں پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اعظم سواتی کا نام آنا اور ان کے اکاؤنٹ میں مبینہ 30 کروڑ روپے کی منتقلی کا زیرِ تفتیش ہونا، اس پورے اسکینڈل کو ایک نیا اور بھیانک رخ دیتا ہے۔ اگرچہ اعظم سواتی سے متعلق یہ معاملہ تاحال تحقیقات کے مرحلے میں ہے اور حتمی جرم یا بے گناہی کا فیصلہ عدالتوں اور متعلقہ تحقیقاتی اداروں نے ہی کرنا ہے، لیکن اتنی بڑی رقم کی مبینہ منتقلی کا سوال ہی پی ٹی آئی کی اخلاقی بنیادوں کو ہلا دینے کے لیے کافی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ، تحقیقاتی اداروں کی رپورٹس میں پی ٹی آئی کے دو مزید مرکزی رہنماؤں کے ساتھ مبینہ مالی لین دین کا اشارہ ملنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ اسکینڈل جتنا نظر آ رہا ہے، اس سے کہیں زیادہ گہرا اور وسیع ہے۔ وہ کون سے پسِ پردہ سیاسی کردار ہیں جن کے نام فی الحال سامنے نہیں لائے گئے؟ وہ کون سے اثر و رسوخ والے چہرے ہیں جنہوں نے عوامی ٹیکسوں کے اربوں روپے کو ذاتی اور سیاسی مفادات کی نذر ہونے دیا؟ یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جو خیبر پختونخوا کے عوام آج تحریک انصاف کی قیادت سے پوچھ رہے ہیں۔
پی ٹی آئی کا سب سے بڑا سیاسی بیانیہ ہمیشہ بلاامتیاز احتساب اور مالی پاکیزگی کا رہا ہے۔ لیکن جب ان کے اپنے دورِ حکومت کے مالیاتی ریکارڈ کھولے جاتے ہیں تو جعلی چیک کی بھر مار، من پسند ٹھیکیداروں کی نوازشات اور صوبائی خزانے کی بے دردی سے لوٹ مار کے مناظر سامنے آتے ہیں۔ کوہستان اسکینڈل نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکمرانی کا دور دراصل مالیاتی بدانتظامی اور کمزور نگرانی کا شاہکار تھا، جہاں ادارے سیاسی سرپرستی میں کھلے عام کھوکھلے کیے جا رہے تھے۔
سوال صرف چند سرکاری اہلکاروں یا ٹھیکیداروں کی گرفتاری تک محدود نہیں ہے۔ اصل سوال اس سیاسی ذمے داری کا ہے جو اقتدار کے نشے میں مست حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے۔ اگر ایک کلرک اربوں روپے کا گٹھ جوڑ بنا کر سارا خزانہ صاف کر جاتا ہے اور اعلیٰ قیادت بے خبر رہتی ہے، تو یہ شدید ترین نااہلی ہے۔ اور اگر قیادت بے خبر نہیں تھی بلکہ ان کے اکاؤنٹس تک اس بہاؤ کے اثرات پہنچ رہے تھے، تو پھر یہ نااہلی نہیں بلکہ مجرمانہ شریکِ جرم ہونے کا معاملہ ہے۔
اب اصل امتحان نیب اور دیگر تحقیقاتی اداروں کا ہے۔ عوام یہ دیکھنے کے منتظر ہیں کہ کیا تحقیقات صرف نچلے درجے کے اہلکاروں کو بالی کا بپرا بنا کر ختم کر دی جائیں گی یا پھر ان اصل سیاسی سہولت کاروں کے گریبانوں تک بھی ہاتھ پہنچے گا جو پسِ پردہ بیٹھ کر اربوں روپے کی اس لٹ مار سے مستفید ہوتے رہے؟
کوہستان اسکینڈل کی فائل جیسے جیسے کھل رہی ہے، پی ٹی آئی کا سیاسی و اخلاقی بیانیہ ویسے ویسے بکھر رہا ہے۔ جب تک اس اسکینڈل کے تمام کرداروں، خواہ وہ کتنے ہی بااثر کیوں نہ ہوں، کو قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا جاتا، تب تک صوبائی حکمرانی اور احتساب کا یہ باب ہمیشہ داغدار رہے گا۔