وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے پولیس لائن ٹانک کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہدائے پولیس کی یادگار پر پھول چڑھا کر سلامی پیش کی اور شہداء کے لیے دعا کی۔ اس موقع پر انہوں نے مقامی عمائدین اور شہداء کے ورثاء سے ملاقات کی اور انہیں حکومت کی جانب سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبے کی پولیس دہشت گردی کے خلاف انتہائی بہادری سے ڈٹی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی پولیس کے مسائل سے حکومت پوری طرح آگاہ ہے اور ان کے فوری حل کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ موت ایک اٹل حقیقت ہے، لیکن وطن اور قوم کی خاطر شہادت کا مرتبہ پانا سب سے بڑا اعزاز ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سی ٹی ڈی، اسپیشل برانچ، اور پولیس سمیت متعدد سکیورٹی اداروں اور صوبے کے عوام نے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے قیامِ امن کے لیے سب سے زیادہ قیمت ادا کی ہے اور پوری قوم ہر مشکل گھڑی میں ان کے شانہ بشانہ کھڑی رہی۔ ان کا مؤقف تھا کہ پوری دنیا جانتی ہے کہ یہ جنگ ہماری نہیں تھی۔ ہمیں اس میں زبردستی دھکیلا گیا، جس کے نتیجے میں گزشتہ دو دہائیوں سے یہ صوبہ قربانیوں کی بھینٹ چڑھ رہا ہے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ صوبے کے عوام اور سکیورٹی اداروں نے مل کر پاکستان اور خطے کی سلامتی کے لیے 80 ہزار سے زائد جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ شہدائے پولیس کے اہل خانہ کے ساتھ حکومت کی جانب سے ہر قسم کا تعاون جاری رہے گا۔ اپنے خطاب کے اختتام پر محمد سہیل آفریدی نے امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حوصلہ بلند رکھیں، وہ وقت دور نہیں جب صوبے میں مکمل اور پائیدار امن قائم ہوگا۔