خیبر پختونخوا میں حالیہ طوفانی بارشوں اور آسمانی آفات نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے، رپورٹ کے مطابق اب تک 26 افراد جاں بحق اور 77 زخمی ہو چکے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 25 مارچ سے جاری اس سلسلے میں جاں بحق ہونے والوں میں 18 بچے، 5 خواتین اور 3 مرد شامل ہیں۔ زیادہ تر حادثات گھروں کی چھتیں اور دیواریں گرنے کے باعث پیش آئے، جن سے مجموعی طور پر 102 مکانات متاثر ہوئے، جن میں سے 20 مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔
بارشوں سے ہونے والے نقصانات بنوں، ایبٹ آباد، پشاور، سوات، باجوڑ، مالاکنڈ اور شمالی وزیرستان سمیت کئی اضلاع میں رپورٹ ہوئے ہیں۔ پشاور کے نشیبی علاقے زیرِ آب آنے سے شہری زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے، جبکہ ضلع خیبر میں پاک افغان شاہراہ اور چترال میں پشاور۔ چترال روڈ سیلابی ریلوں کے باعث ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی ہے۔ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122 اور ضلعی انتظامیہ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں اور متاثرین کو فوری امداد کی فراہمی جاری ہے۔
سیلاب کا خطرہ
پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ 8 اپریل تک مغربی ہواؤں کا ایک نیا اور طاقتور سلسلہ بالائی اضلاع کو متاثر کرے گا، جس سے صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ چترال، دیر، سوات اور کوہستان میں شدید بارشوں اور برف پگھلنے کے باعث گلیشیئر جھیلیں پھٹنے کا شدید خطرہ ہے۔ اتھارٹی نے دریائے چترال اور دریائے سوات میں طغیانی کے پیشِ نظر نشیبی آبادیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے اور سیاحوں کو پہاڑی علاقوں کا سفر مؤخر کرنے کی تاکید کی ہے۔
محکمہ موسمیات کی پیش گوئی
محکمہ موسمیات کے مطابق، ملک بھر میں مغربی ہواؤں کا سلسلہ فعال ہے جس کے باعث خیبر پختونخوا کے علاوہ اسلام آباد، پنجاب، کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش اور ژالہ باری کا امکان ہے۔ بالائی سندھ اور بلوچستان کے مختلف حصوں میں بھی ہلکی بارش اور پہاڑوں پر برفباری کی پیش گوئی کی گئی ہے، جس سے ملک بھر میں سردی کی لہر برقرار رہنے کا امکان ہے۔