خیبر پختونخوا کے ایک سرکاری اسکول میں شدید بارش کے بعد پانی داخل ہو کر احاطے اور کلاس رومز میں پھیل گیا، جس کے بعد صوبے میں بنیادی سہولیات اور انتظامی کارکردگی سے متعلق حکومتی دعووں پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر میں اسکول کا احاطہ اور کلاس رومز مکمل طور پر پانی میں ڈوبے دکھائی دیے، جس سے تعلیمی اداروں میں نکاسیِ آب کے ناقص انتظامات کھل کر سامنے آگئے۔
زیادہ بارش کے بعد خیبرپختونخوا کے ایک سرکاری سکول میں سیلابی پانی داخل pic.twitter.com/VoEEtjuIuW
— Irfan Khan (@irfijournalist) August 24, 2026
گڈ گورننس کے دعوے
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک طرف حکومتِ خیبر پختونخوا گڈ گورننس اور عوامی خدمت کے دعوے کرتی ہے، تو دوسری طرف سرکاری اسکول معمولی بارش سے بھی محفوظ نہیں رہ سکے۔ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر تعلیمی اداروں کی بنیادی ضروریات، نکاسیِ آب اور طلبہ کے لیے محفوظ ماحول حکومتی ترجیحات میں شامل نہیں تو پھر گڈ گورننس کے دعوے کس بنیاد پر کیے جا رہے ہیں۔
ترجیحات پر سوالیہ نشان
سوشل میڈیا صارفین اور مبصرین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ صوبائی حکومت کی اصل ترجیح کیا ہے: سرکاری اداروں کی حالت بہتر بنانا اور عوامی مسائل حل کرنا، یا سیاسی احتجاج اور محاذ آرائی۔ ان کا مؤقف ہے کہ بچوں کے اسکول بارش کے پانی میں ڈوب جانا محض ایک انتظامی ناکامی نہیں بلکہ ترجیحات کے تعین سے متعلق سنگین سوال ہے۔
اس واقعے کے بعد والدین اور مقامی رہائشیوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے، اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ متعلقہ حکام سرکاری تعلیمی اداروں میں نکاسیِ آب کے مستقل اور مؤثر انتظامات یقینی بنائیں تاکہ آئندہ بارشوں میں طلبہ کو ایسی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔