"> خیبر پختونخوا میں سرکاری اسکول بارش کے پانی میں ڈوب گیا
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

خیبر پختونخوا: بارش نے حکومتی دعوؤں کی قلعی کھول دی، اسکول زیرِ آب

خیبر پختونخوا کے سرکاری اسکول میں شدید بارش کے بعد کلاس رومز زیرِ آب آگئے، جس سے حکومتی گورننس اور ترجیحات پر سوالات اٹھ گئے۔
خیبر پختونخوا میں سرکاری اسکول بارش کے پانی میں ڈوب گیا

خیبر پختونخوا میں سرکاری اسکول بارش کے پانی میں ڈوب گیا، نکاسیِ آب کے ناقص انتظامات بےنقاب، حکومتی ترجیحات پر سوالیہ نشان۔

August 24, 2026

خیبر پختونخوا کے ایک سرکاری اسکول میں شدید بارش کے بعد پانی داخل ہو کر احاطے اور کلاس رومز میں پھیل گیا، جس کے بعد صوبے میں بنیادی سہولیات اور انتظامی کارکردگی سے متعلق حکومتی دعووں پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر میں اسکول کا احاطہ اور کلاس رومز مکمل طور پر پانی میں ڈوبے دکھائی دیے، جس سے تعلیمی اداروں میں نکاسیِ آب کے ناقص انتظامات کھل کر سامنے آگئے۔

گڈ گورننس کے دعوے

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک طرف حکومتِ خیبر پختونخوا گڈ گورننس اور عوامی خدمت کے دعوے کرتی ہے، تو دوسری طرف سرکاری اسکول معمولی بارش سے بھی محفوظ نہیں رہ سکے۔ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر تعلیمی اداروں کی بنیادی ضروریات، نکاسیِ آب اور طلبہ کے لیے محفوظ ماحول حکومتی ترجیحات میں شامل نہیں تو پھر گڈ گورننس کے دعوے کس بنیاد پر کیے جا رہے ہیں۔

ترجیحات پر سوالیہ نشان

سوشل میڈیا صارفین اور مبصرین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ صوبائی حکومت کی اصل ترجیح کیا ہے: سرکاری اداروں کی حالت بہتر بنانا اور عوامی مسائل حل کرنا، یا سیاسی احتجاج اور محاذ آرائی۔ ان کا مؤقف ہے کہ بچوں کے اسکول بارش کے پانی میں ڈوب جانا محض ایک انتظامی ناکامی نہیں بلکہ ترجیحات کے تعین سے متعلق سنگین سوال ہے۔

اس واقعے کے بعد والدین اور مقامی رہائشیوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے، اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ متعلقہ حکام سرکاری تعلیمی اداروں میں نکاسیِ آب کے مستقل اور مؤثر انتظامات یقینی بنائیں تاکہ آئندہ بارشوں میں طلبہ کو ایسی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *