کویت نے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے درمیان فوجی تربیت، دفاعی تعاون، انٹیلی جنس کے تبادلے اور عسکری شعبے میں مختلف سطحوں پر تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا۔
کویت نے معاہدے کی منظوری دیتے ہوئے ایک فرمانِ قانون جاری کیا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان عسکری و دفاعی تعاون کے لیے قانونی فریم ورک باقاعدہ طور پر نافذ ہو گیا ہے۔
کویتی سرکاری گزٹ کویت الیوم میں شائع ہونے والے فرمان کے مطابق معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات کو مضبوط بنانا ہے۔
اس میں فوجی تربیت، عسکری تعلیم، مسلح افواج کے باہمی تعاون اور دیگر دفاعی شعبوں میں اشتراک کو فروغ دینا شامل ہے۔ معاہدے پر دونوں ممالک کے قوانین اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق عمل درآمد کیا جائے گا۔
معاہدے میں فوجی تربیت، لاجسٹک تعاون، اہلکاروں اور ماہرینِ دفاع کے تبادلے، سائنسی و تکنیکی تعاون اور فوجی انٹیلی جنس جیسے شعبے شامل ہیں۔ معاہدے پر عمل درآمد کے لیے دونوں ممالک سالانہ منصوبے اور ایگزیکٹو پروٹوکول مرتب کریں گے۔
اس مقصد کے لیے پاکستان اور کویت پر مشتمل ایک مشترکہ فوجی کمیٹی بھی قائم کی جائے گی، جو معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی کرے گی۔
دونوں ممالک کے وزرائے دفاع کے نامزد نمائندے اس کمیٹی کی سربراہی کریں گے، جبکہ کمیٹی سال میں ایک بار اجلاس منعقد کرے گی۔ معاہدے میں خفیہ معلومات کے تحفظ سے متعلق خصوصی شقیں بھی شامل کی گئی ہیں۔
ان کے تحت دونوں ممالک ایک دوسرے سے حاصل ہونے والی خفیہ دستاویزات کو تحریری اجازت کے بغیر کسی تیسرے فریق کے ساتھ شیئر نہیں کریں گے، اور یہ رازداری معاہدے کے خاتمے کے بعد بھی برقرار رہے گی۔
مالی امور سے متعلق شق میں باہمی مساوات کا اصول اپنایا گیا ہے، جس کے تحت سرکاری دوروں کے دوران میزبان ملک مہمان وفود کے اخراجات، رہائش اور ہنگامی طبی سہولیات فراہم کرے گا۔
معاہدے کی تشریح یا عمل درآمد سے متعلق کسی بھی اختلاف کو باہمی مشاورت سے حل کیا جائے گا، اور اسے کسی ملکی یا بین الاقوامی عدالت میں نہیں لے جایا جائے گا۔
واضح رہے کہ پاکستان اور کویت کے درمیان یہ دفاعی تعاون کا معاہدہ 11 جون 2023 کو کویت میں طے پایا تھا۔