کچے، پتھریلے راستوں پر سنبھل سنبھل کر قدم رکھتے ہوئے ہم آگے بڑھ رہے تھے۔ کچھ ہی دیر میں ہم اس علاقے میں داخل ہو گئے۔ میرے ساتھ لیڈی ہیلتھ ورکرز موجود تھیں، جو ہر گھر کا دروازہ کھٹکھٹاتیں، وہاں موجود خواتین سے ان کی صحت کے بارے میں سوالات کرتیں اور جواب میں انہیں صحت سے متعلق ضروری معلومات فراہم کرتیں۔
ایک گھر میں ایک حاملہ خاتون موجود تھیں جو آئرن اور فولک ایسڈ کے سپلیمنٹس استعمال نہیں کر رہی تھیں۔ لیڈی ہیلتھ ورکر نے انہیں سمجھایا کہ دورانِ حمل اپنی صحت اور غذا کا خیال کس طرح رکھنا ضروری ہے۔ پھر انہوں نے اپنے بیگ سے آئرن اور فولک ایسڈ کے سپلیمنٹس نکال کر دیے اور ان کی افادیت کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔
اگلے گھر میں تین ماہ کا ایک بچہ موجود تھا۔ وہاں ماں کو یہ سمجھایا گیا کہ چونکہ وہ بچے کو دودھ پلا رہی ہیں، اس لیے اپنی غذا کا خیال کس طرح رکھنا چاہیے، اور یہ بھی بتایا گیا کہ جب بچہ چھ ماہ کا ہو جائے تو اوپر کی غذا کس طرح شروع کی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ سوال بھی کیا گیا کہ بچوں کے درمیان وقفے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں، کیوں کہ دو بچوں کے درمیان کم از کم تین سال کا وقفہ ضروری ہے۔
اس کے بعد ہم ایک اور گھر میں گئے، جہاں اٹھارہ ماہ کا ایک نہایت کمزور بچہ موجود تھا۔ جب اس کا بازو ناپا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ غذائی قلت کا شکار ہے۔ اس کی ماں کو سمجھایا گیا کہ قریبی بنیادی صحت مرکز میں قائم او ٹی پی پر بچے کو لایا جائے تاکہ بروقت علاج کے ذریعے غذائی قلت پر قابو پایا جا سکے۔
یوں ہر گھر میں موجود صحت کے مسائل کے مطابق لیڈی ہیلتھ ورکرز رہنمائی فراہم کرتی رہیں اور خواتین کو باخبر بناتی رہیں۔ میں یہ سب دیکھتے ہوئے یہی سوچتی رہی کہ یہ لیڈی ہیلتھ ورکرز دراصل ویمن ایمپاورمنٹ کا حقیقی چہرہ ہیں۔ وہ خاموشی سے، مسلسل محنت کے ذریعے کمیونٹیز کو بدل رہی ہیں۔
انیس سو اٹہتر میں عالمی ادارۂ صحت اور یونیسف کے اشتراک سے سوویت یونین کے شہر الما آتا میں پرائمری ہیلتھ کیئر پر ایک تاریخی کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں 134 ممالک نے شرکت کی۔ اس کانفرنس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ صحت کی پالیسیوں کو ہر ملک کے سماجی، معاشی اور ثقافتی حالات کے مطابق تشکیل دیا جانا چاہیے۔ الما آتا اعلامیے کے مطابق، کمیونٹی ہیلتھ ورکرز کا قیام پرائمری ہیلتھ کیئر کے بنیادی ستونوں میں سے ایک ہے۔
1970 اور 1980 کی دہائی میں پاکستان میں زچگی اور بچوں کی صحت کے اشارے نہایت کمزور تھے۔ دیہی آبادی اور صحت کے نظام کے درمیان مؤثر رابطے کا فقدان تھا اور محدود وسائل کا بڑا حصہ tertiary care پر خرچ ہو رہا تھا، جس کے باعث بنیادی صحت کی سہولیات کو نظرانداز کیا جا رہا تھا۔ انہی حالات کے پیش نظر، اور الما آتا اعلامیے کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے، حکومتِ پاکستان نے 1994 میں نیشنل پروگرام فار فیملی پلاننگ اینڈ پرائمری ہیلتھ کیئر کا آغاز کیا، جو بعد ازاں لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام کے نام سے معروف ہوا۔
لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام وزارتِ قومی صحت، ضوابط و ہم آہنگی کے تحت نافذ کیا جاتا ہے۔ اس پروگرام کو حکومتِ پاکستان کے علاوہ بین الاقوامی اداروں اور ڈونرز کی معاونت بھی حاصل ہے۔ اس وقت ملک بھر میں 90 ہزار سے زائد لیڈی ہیلتھ ورکرز خدمات سر انجام دے رہی ہیں، جو زیادہ تر دیہی اور کم وسائل رکھنے والے علاقوں میں کام کرتی ہیں۔
ہر لیڈی ہیلتھ ورکر اوسطاً ایک ہزار افراد پر مشتمل آبادی کو کور کرتی ہے اور روزانہ کی بنیادوں پر گھر گھر جا کر صحت سے متعلق خدمات فراہم کرتی ہے۔
لیڈی ہیلتھ ورکرز کی ذمہ داریاں نہایت وسیع اور متنوع ہیں، جن میں شامل ہیں:
- گھر گھر جا کر صحت سے متعلق آگاہی فراہم کرنا
- زچہ و بچہ کی صحت کی خدمات
- حفاظتی ٹیکہ جات کے پروگرام میں معاونت
- بچوں کی نشوونما اور وزن کی نگرانی
- خاندانی منصوبہ بندی کی ترغیب
- عام بیماریوں کی شناخت اور ابتدائی رہنمائی
- مریضوں کو اعلیٰ سطحی طبی سہولیات کی جانب ریفر کرنا
- مریضوں کا ڈیٹا محفوظ کرنا
- خواتین کی صحت سے متعلق مسائل پر آواز اٹھانا
- کمیونٹی موبلائزیشن میں کردار ادا کرنا
لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام نے پاکستان میں بنیادی صحت کے نظام پر نمایاں مثبت اثرات مرتب کیے ہیں، جن میں شامل ہیں:
- بچوں میں حفاظتی ٹیکہ جات کی شرح میں اضافہ
- حاملہ خواتین میں اینٹی نیٹل کیئر کے استعمال میں بہتری
- بچوں کی عام بیماریوں کا بروقت علاج
- بچوں کی نشوونما کی باقاعدہ نگرانی
- ماں کے دودھ سے متعلق مشاورت
- خواتین میں ٹیٹنس ویکسین اور مانع حمل طریقوں کے استعمال میں اضافہ
اگرچہ یہ پروگرام ایک کامیاب ماڈل سمجھا جاتا ہے، تاہم اسے کئی چیلنجز کا سامنا بھی ہے، جن میں شامل ہیں:
- ادویات کی غیر مستقل فراہمی
- لیڈی ہیلتھ ورکرز کی تربیت میں کمی
- بعض بیماریوں کے حوالے سے محدود مہارت
- صحت کے مراکز کی ناکافی فعالیت
- مالی اور انتظامی مسائل
- سیاسی مداخلت
لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام پاکستان میں پرائمری ہیلتھ کیئر کو مضبوط بنانے میں ایک کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ اس پروگرام نے کمیونٹی اور صحت کے نظام کے درمیان ایک مؤثر پل کا کردار ادا کیا ہے، جس کے نتیجے میں زچگی اور بچوں کی صحت کے اشاریوں میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ تاہم، اس پروگرام کی پائیداری اور مؤثریت کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ تربیت، وسائل کی فراہمی اور نظامی اصلاحات پر خصوصی توجہ دی جائے۔
ان گھروں سے نکلتے ہوئے مجھے بار بار یہی احساس ہوتا رہا کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز صرف صحت کی سہولیات فراہم نہیں کر رہیں بلکہ وہ اعتماد، آگاہی اور خودمختاری بھی بانٹ رہی ہیں۔ یہ خواتین ان کچے راستوں پر چلتے ہوئے محض دروازے نہیں کھٹکھٹاتیں، بلکہ برسوں سے بند ذہنوں اور محدود امکانات کے در بھی آہستہ آہستہ کھولتی ہیں۔ شاید اسی لیے کمیونٹی کی سطح پر صحت میں آنے والی پائیدار تبدیلی کا راز کسی بڑے ہسپتال یا پالیسی دستاویز میں نہیں، بلکہ ان خاموش قدموں میں پوشیدہ ہے جو روزانہ لیڈی ہیلتھ ورکرز ان بستیوں میں اٹھاتی ہیں۔
دیکھیں: افغان سرحد بند ہونے سے پاکستان کی سکیورٹی صورتحال بہتر، دہشت گردی کے واقعات میں 17 فیصد کمی