افغانستان کے صوبہ لوگر میں طالبان انتظامیہ کی جانب سے رہائشی مکانات کو مسمار کرنے کے خلاف مقامی آبادی سڑکوں پر نکل آئی۔ ضلع آبچکان کے گاؤں غیرت آباد کے مکینوں نے طالبان حکام پر الزام عائد کیا ہے کہ قانونی ملکیتی دستاویزات موجود ہونے کے باوجود ان کے گھروں کو زبردستی مسمار کر کے انہیں بے گھر کر دیا گیا ہے۔
مطالبات اور الزامات
احتجاجی مظاہرے میں شریک شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ برسوں سے ان مکانات میں مقیم ہیں اور ان کے پاس زمینوں کی ملکیت کے تمام قانونی ثبوت موجود ہیں۔ متاثرین کے مطابق طالبان اہلکاروں نے ان کے دلائل سننے کے بجائے بھاری مشینری کے ذریعے کارروائی شروع کی اور انہیں گھروں سے نکلنے پر مجبور کیا۔
مقامی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کاروائی کے دوران مزاحمت کرنے والے 11 افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے، جن کی عمریں 50 سے 70 سال کے درمیان بتائی جاتی ہیں۔
Alert: Residents of Ghairat Abad village in Abchakan area of Logar province, Afghanistan, have taken to the streets in protest against the Taliban. According to the locals, the Taliban demolished their legally owned homes in Ghairat Abad and forced them out of their houses.
— Mahaz (@MahazOfficial1) June 13, 2026
The… pic.twitter.com/AoWE4g5oYa
شواہد اور عوامی ردعمل
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ طالبان انتظامیہ کے اہلکار بلڈوزر اور دیگر مشینری کی مدد سے مکانات گرا رہے ہیں، جبکہ خواتین اور بچے کھلے آسمان تلے اپنے گرتے ہوئے گھروں کو دیکھ کر دہائیاں دے رہے ہیں۔ گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ بزرگ شہریوں کی گرفتاری نے علاقے میں مزید اشتعال پیدا کر دیا ہے۔
انتظامیہ کا مؤقف
اگرچہ طالبان کی مقامی انتظامیہ نے اس مخصوص واقعے پر اب تک کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، تاہم ماضی میں اس طرح کی کارروائیوں کو سرکاری زمینوں واگزار کرانے یا غیر قانونی تجاوزات کے خاتمے کا نام دیا جاتا رہا ہے۔ دوسری جانب، انسانی حقوق کے کارکنوں نے معمر افراد کی گرفتاری اور جبری بے دخلی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
علاقے میں تاحال صورتحال کشیدہ ہے اور مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ گرفتار افراد کو فوری رہا کیا جائے اور ان کے نقصانات کا ازالہ کر کے مسماری کا سلسلہ روکا جائے۔