امریکی تھنک ٹینک ریسپانسبل اسٹیٹ کرافٹ نے نیا تجزیہ جاری کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ پاکستان کو پابند نہیں کرتا۔ اسلام آباد یمن کے اندر براہِ راست عسکری مداخلت کا پابند نہیں ہے۔
یہ معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین ہے۔ یہ پہلے سے موجود اسٹریٹجک تعاون کو باقاعدہ بناتا ہے۔ اس کا مقصد دفاع، سفارت کاری اور توازن قائم رکھنا ہے۔
براہِ راست مداخلت کی شرط
تھنک ٹینک کے مطابق یہ معاہدہ دفاعی انتظام ہے۔ یہ کوئی کھلی فوجی مہم جوئی نہیں ہے۔ اسلام آباد کا ردعمل صرف مداخلت تک محدود نہیں ہے۔
پاکستان یمن پر حملے کیے بغیر بھی معاونت کر سکتا ہے۔ اس میں انٹیلی جنس اور لاجسٹک تعاون شامل ہے۔ فضائی دفاع اور تکنیکی مدد بھی فراہم کی جا سکتی ہے۔
پاکستان اپنے حتمی ردعمل کو دانستہ طور پر واضح نہیں کرتا۔ اس ابہام کا مقصد دفاعی دباؤ کو برقرار رکھنا ہے۔
سعودی عرب میں کم از کم 8 ہزار پاکستانی فوجی موجود ہیں۔ اس کے علاوہ 16 طیارے بھی وہاں تعینات ہیں۔ یہ فورس براہِ راست حملوں کے بغیر دفاعی معاونت سنبھال سکتی ہے۔
حرمین شریفین کا تحفظ
حوثی فورسز کی زمینی پیش قدمی صورت حال بدل سکتی ہے۔ مکہ یا مدینہ کو خطرہ براہِ راست ردعمل کا سبب بنے گا۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے واضح مؤقف اپنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان معاہدے کی شرائط کا پابند ہے۔ حرمین شریفین کا دفاع ملک کے لیے ریڈ لائن ہے۔ اس پر کسی معاہدے کے بغیر بھی بھرپور ردعمل آئے گا۔
سفارت کاری اولین ترجیح
تھنک ٹینک کے مطابق سفارت کاری پاکستان کی پہلی ترجیح ہے۔ اسلام آباد تہران کے ساتھ قریبی رابطے رکھتا ہے۔ وہ حوثیوں کو روکنے کے لیے سفارتی اثر استعمال کر سکتا ہے۔
آبنائے باب المندب عالمی تجارت کے لیے اہم ہے۔ اس راستے کے تحفظ میں پاکستان کا کردار ممکن ہے۔ یہ کردار کسی بین الاقوامی اتحاد کی صورت میں سامنے آئے گا۔