دس مئی دو ہزار پچیس کی شام میں کچھ دیر کے لئے اپنے گھر سے قریب سوسائٹی کے پارک چلا گیا تھا۔ ایک جانب یہ دکھ کہ ہمارے ازلی دشمن کے بزدلانہ، مکارانہ حملے سے کئی پاکستانیوں کی قیمتی جانیں گئیں، خاص کر ہمارے آبائی ضلع بہاولپور میں میزائل گرنے سے کئی سویلین اموات ہوئیں، ان کا دکھ تھا۔ اس سب پر مگر وہ خوشی اور سرشاری حاوی تھی کہ پاک افواج نے دشمن کو ایک عبرت انگیز شکست سے دوچار کیا۔ غروراور تکبر کے پیکر انڈینز بدترین ہزیمت سے دوچار ہوئے۔
خاموشی سے پارک کے ایک کونے میں بیٹھا سوچتا رہا۔ پارک کے آس پاس گھروں سے بچوں کے خوشی کے نعرے سنتا رہا۔ شکر کے کلمات میری زبان پر تھے ، صدر ٹرمپ کا وہ ٹوئٹ موبائل نکال کر دو تین بار پڑھا جس میں اس نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ ایک لہر سی دل میں اٹھی کہ رب کریم کے فضل سے ہم پاکستانی ثابت قدمی اور دلاوری سے کھڑے رہے۔ ہم نے جواب دیا، ہم نے ثابت کیا کہ ہم ہیں۔ رب کا کرم ہوا، فضل ہوا، ہم فاتح ٹھیرے۔ الحمدللہ۔
آج اس معرکے کو ایک برس مکمل ہونے کو ہے۔ یہ وقت ہے کہ ٹھنڈے دل سے سوچا جائے کہ پچھلے سال مئی کے ان چار دنوں میں جو بیج بویا گیا، اس سے کس قسم کی فصل اگی؟عنوان تو میں نے روایتی طور پر یہ رکھا کہ کیا کھویا، کیا پایا؟ بڑا غور وخوض کیا، مگر سچی بات یہ ہے کہ ہمارے حصے میں اللہ کے فضل سے سب کچھ اچھا ہی آیا۔ پاکستان نے معرکہ حق اور اس کے بعد سے کھویا کچھ نہیں، حاصل ہی کیا ہے، بہت کچھ۔ الحمدللہ۔
فضائی محاذ
آغاز فضائی محاذ سے کریں۔ جب بھارت نے آپریشن سندور شروع کیا تو دنیا کا مفروضہ یہ تھا کہ رافیل طیارے، جو مہنگے ترین فرانسیسی ساختہ جنگی جہاز ہیں، ان کے سامنے پاک فضائیہ نہیں ٹھیر سکے گی۔ ہر دفاعی تجزیہ کار یہی کہتا تھا کہ رافیل کو ایڈوانٹیج حاصل ہے، پاکستانی طیارے نسبتاً کم جدید ہیں، بھارتی ٹیکنالوجی میں کئی سال کی برتری ہے۔ یہ سب خیالات غلط نکلے۔
ان دنوں چینی اے آئی ڈیپ سیک مشہور ہوئی تھی، میں نے ڈیپ سیک اور چیٹ جی پی ٹی دونوں سے پاک فضائیہ اور انڈین فضائیہ کا موازنہ کرایا۔ دونوں کم بخت اس پر متفق تھے کہ رافیل کا مقابلہ تھنڈر کر سکتا ہے نہ جے ٹین سی۔ آخر جھنجھلا کر میں نے انہیں پرامپٹ دی کہ مجھے ایسا منظرنامہ بنا کر دو جس میں پاک فضائیہ جیت جائے۔ بڑا مر مر کر ڈیپ سیک نے ایک نقشہ بنایا کہ پاکستان ایسا کرے کہ جے ایف سیونٹین تھنڈر آگے رکھے اور جے ٹین سی دور پیچھے گلگت کی پہاڑیوں کے پیچھے چھپ ہوں، انڈین رافیل پاکستان کو کمزور دیکھ کر جھپٹیں، پاکستانی فضا میں آ جائیں اور پھر اچانک جے ٹین سی نکل کر آئے اور پی ایل پندرہ میزائل چلا دے۔ صرف یہی ایک منظرنامہ ایسا ہے جس میں رافیل کو شکست دی جا سکتی ہے۔ بڑا غصہ آیا، مایوسی ہوئی، مگر دل میں کہیں یقین تھا کہ رب کریم مدد کرے گا اور ان فرعون صفت حملہ آوروں کو ذلت و رسوائی ملے گی ، ان شااللہ۔ ویسا ہی ہوا، الحمدللہ۔
جب فیصلہ کن مرحلہ آیا تو پاک فضائیہ نے تاریخ کی سب سے بڑی فضائی لڑائی میں، جہاں ایک سو سے زائد طیارے ایک ساتھ میدان میں تھے، بھارت کے کئی جدید طیارے مار گرائے، جن میں تین رافیل بھی تھے، اور پاک فضائیہ کا ایک بھی طیارہ نہیں گرا۔ بعض اندازوں کے مطابق چھ اور بعض کے مطابق آٹھ بھارتی طیارے گرائے گئے، رافیل کی تباہی تو خیر کنفرم اور متفقہ ہی ہے دنیا بھر کے عسکری ماہرین کے نزدیک۔
پاک فضائیہ کے سربراہ نے سالگرہ کی تقریب میں کہا کہ ہم دشمن کے اعلیٰ ترین طیارے گرائے، جدید ترین ایس چار سو بیٹری تباہ کی اور دشمن کی بجلی اور نقل و حمل کا نظام درہم برہم کیا۔
جو بات سب سے زیادہ عالمی دفاعی حلقوں میں زیر بحث آئی وہ یہ تھی کہ پاکستان نے یہ کیسے کیا؟ کم وسائل، چھوٹا دفاعی بجٹ، اس نے اتنا مؤثر جواب کیسے دیا؟ اس سوال کا جواب ایک لفظ میں ہے اور وہ لفظ ہے: نظام۔
پاک فضائیہ نے جو کارنامہ انجام دیا وہ صرف پائلٹوں کی بہادری یا طیاروں کی کارکردگی کا کمال نہیں تھا۔ یہ نیٹ ورک سینٹرک وارفیئر کا وہ ماڈل تھا جس پر برسوں محنت کی گئی تھی۔ آواکس طیارے، زمینی ریڈار، جنگی طیارے اور فضائی دفاعی نظام، یہ سب ایک ہی ڈیٹا لنک سے جڑے تھے اور سب کو رئیل ٹائم (یعنی ٹھیک اسی لمحے) میں ایک جیسی تصویر مل رہی تھی۔ جب بھارتی رافیل نے پرواز بھری تو پاکستانی جے ٹین سی نے اسے خاصا دور ہی سے پی ایل پندرہ میزائل سے نشانہ بنا لیا۔ یہ صرف پائلٹ کی مہارت نہیں تھی، یہ پورے نظام کی وہ طاقت تھی جو ایک مربوط سوچ سے بنی تھی۔
اس کے ساتھ ہی الیکٹرانک وارفیئر نے بھارتی طیاروں کے ریڈار کو دھوکا دیا، ان کی مواصلاتی لائنیں کاٹیں، ان کے میزائلوں کی رہنمائی کے نظام کو گمراہ کیا۔ فرانسیسی پارلیمان میں بعد میں یہ سوال اٹھا کہ رافیل کے اسپیکٹرا (الیکٹرانک وارفیئر سسٹم) کو اپ گریڈ کرنا پڑے گا کیونکہ یہ پاکستانی جیمنگ کے سامنے ناکافی ثابت ہوا۔ عالمی دفاعی تجزیہ کاروں نے پاک فضائیہ کی کارکردگی کو بار بار “غیر متوقع طور پر مؤثر” قرار دیا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو عموماً پاکستانی فوج کو معمولی سمجھتے رہے ہیں۔
آپریشن بنیان المرصوص میں پاکستان نے چھبیس بھارتی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، پندرہ فضائی اڈوں پر حملے ہوئے، بیاس اور ناگروٹا میں براہموس میزائل کے ذخائر تباہ کیے اور آدم پور میں روسی ساختہ دنیا کے ایک بہت مہنگے اور مانے ہوئے اینٹی میزائل سسٹم ایس چار سو کی بیٹری بھی تباہ کر دی۔ اس کارکردگی کے بعد دنیا کے سامنے یہ بات ثابت ہوگئی کہ جنوبی ایشیا میں اسٹریٹجک توازن ابھی قائم ہے۔ بھارت اپنی عددی، معاشی یا ہتھیاروں کی برتری کے باوجود پاکستان کو آسان ہدف نہیں بنا سکتا۔
ایک اور نکتہ جو کم ذکر ہوا وہ ہے پاکستان کا کم خرچ مگر موثر دفاعی ماڈل۔ بھارت نے فرانس سے اربوں ڈالر کے رافیل خریدے، روس سے ایس چار سو لیا، مغرب سے جدید ترین سامان درآمد کیا۔ پاکستان نے چین کے ساتھ مل کر جے ایف سترہ بنایا، چینی جے ٹین سی لیا اور الیکٹرانک وارفیئر سمیت پورا نظام اپنے وسائل کے مطابق تیار کیا۔ نتیجہ سب کے سامنے آیا۔ اس معرکے نے دنیا کو سبق دیا کہ صرف مہنگا اسلحہ فیصلہ کن نہیں ہوتا۔ اصل فرق پیدا کرتے ہیں تربیت، نظم، حکمت عملی، ہم آہنگی اور فوج کا حوصلہ۔ ہتھیار تو آلہ ہے، استعمال کرنے والا ہاتھ اور سوچنے والا دماغ اہم ہے۔
رافیل کے گرنے کی خبر پھیلی تو دنیا کی ہتھیار منڈی میں ہلچل مچ گئی۔ فرانسیسی کمپنی ڈاسالٹ کے حصص گرے۔ انڈونیشیا نے رافیل خریدنے کا ارادہ ملتوی کر کے چینی جے ٹین سی کو متبادل کے طور پر جانچنا شروع کر دیا۔ ایک سینئر صحافی دوست نے دلچسپ بات کہی کہ جیسے اسی اور نوے کی دہائیوں میں جاپانی ٹیکنالوجی نے دنیا میں اپنی اہمیت تسلیم کرائی تھی، یہ کام اب چین کر رہا ہے۔ چین پاکستان دفاعی تعاون کو حقیقی میدانی آزمائش کا ثبوت ملا اور اسی نے سی پیک کے دوسرے مرحلے کو بھی رفتار دی۔
سفارتی محاذ
اب سفارتی محاذ پر آتے ہیں اور یہاں کہانی مزید دلچسپ ہوجاتی ہے۔ جب جنگ بندی ہوئی تو ٹرمپ نے خود اعلان کیا۔ یہ ایک ایسا لمحہ تھا جس نے بھارت کو سخت تکلیف دی۔ بھارت نے اس ثالثی کو کبھی تسلیم نہیں کیا اور اس ضد نے اسے نقصان پہنچایا۔ صدر ٹرمپ نے پچھلے ایک سال میں درجنوں بار بھارت کو لفظی طور پر ذلیل کیا، بار بار بھارتی طیارے گرنے کا کہا اور ہر بار وہ تعداد کچھ بڑھا ہی دیتے ۔ یوںدنیا بھر میں مودی کا تماشا بنتا رہا کیونکہ صدر ٹرمپ کا ایک ایک لفظ پوری دنیا میں رپورٹ ہوتا ہے۔
پاکستان نے سمجھداری سے کام لیا، وزیراعظم شہباز شریف نے ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کر دیا۔ جو ٹرمپ اپنی پہلی حکومت میں پاکستان کو جھوٹ اور دھوکے کا ملک کہتا تھا، وہی اب فیلڈ مارشل عاصم منیر اور شہباز شریف کی تعریف کر رہا تھا۔ ٹرمپ نے اس جنگ بندی کو اپنے حل کیے ہوئے آٹھ بڑے بین الاقوامی تنازعات میں شمار کیا۔ فنانشل ٹائمز نے لکھا کہ جنگ بندی نے اسلام آباد کو سفارتی بالادستی دی کیونکہ امریکی مداخلت نے دنیا کی پانچویں بڑی معیشت بھارت کو ایک ایسی ریاست کے ساتھ ایک صف میں کھڑا کر دیا جسے وہ دہشت گردی کی سرپرست کہتا آیا ہے۔
مسئلہ کشمیر کی بات کریں تو بھارت نے دو ہزار انیس میں آرٹیکل تین سو ستر ختم کر کے کشمیر کو ہمیشہ کے لیے ہضم کرنے اور اسے عالمی ایجنڈے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا تھا۔ معرکہ حق نے اس سوچ کو ایک ہی جھٹکے میں توڑ دیا۔ کشمیر دوبارہ عالمی میز پر آگیا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی رکنیت اس تناظر میں اور بھی کارآمد ثابت ہوئی۔
پاکستان کا مڈل ایسٹ پلیئر بننا
اب وہ بات جو خاکسار کی رائے میں سب سے اہم ہے، وہ ہے مشرق وسطیٰ میں پاکستان کا نیا کردار۔ یہ سوال ایک بار خود سے پوچھیں کہ پاکستان کا مشرق وسطیٰ سے کیا رشتہ تھا؟ عربوں کے پاس ہمارے مزدور، ہماری دعائیں اور تمنائیں۔ مسجد اقصیٰ کے لیے آنسو، فلسطین کے لیے تقریریں، مگر عالمی سفارتی اصطلاح میں مڈل ایسٹ کے کسی ایشو پر ہونے والی کانفرنس کے سٹیج میں پاکستان کے لئے کوئی چیئر نہیں تھی۔ فیصلوں کے قریب کوئی رسائی نہیں تھی، درحقیقت ہمیں تو کوئی اس حوالے سے پوچھتا ہی نہیں تھا۔ تاہم معرکہ حق نے یہ صورت بدل دی۔
دو ہزار چھبیس کے آغاز میں ٹرمپ نے جو بورڈ آف پیس بنایا، جو غزہ میں امن قائم رکھنے کے لیے تھا، اس میں پاکستان کو مدعو کیا گیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق سعودی عرب کو احساس ہوا کہ وہ اکیلا نہیں چل سکتا۔ ترکیہ کا اثرورسوخ بڑھ رہا تھا، ایران اپنا کردار چاہتا تھا۔ ریاض کو ایک ایسے ملک کی ضرورت تھی جو ترکیہ اور ایران دونوں کے ساتھ رابطے رکھے، فوجی طاقت کا مظاہرہ کر چکا ہو اور مسلمان دنیا میں اعتماد کا حامل بھی ہو۔ یوں پاکستان مشرق وسطیٰ کے معاملات میں سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ تیسرے ستون کے طور پر ابھرا، سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ ہوا اور خبریں ہیں کہ قطر بھی ایسے ہی کسی بندوبست پر غور کر رہا ہے۔ممکن ہے کویت بھی ایسا کرگزرے۔
پھر آئی وہ خبر جس نے پوری دنیا کو چونکایا۔ گیارہ اپریل دو ہزار چھبیس کو اسلام آباد میں کچھ ایسا ہوا جو انیس سو اناسی کے بعد پہلی بار ہوا۔ امریکی اور ایرانی وفود ایک ہی شہر میں مذاکرات کے لیے بیٹھے۔ یہ شہر واشنگٹن تھا نہ ویانا، نہ جنیوا، نہ مسقط۔ یہ اسلام آباد تھا۔ پہلے یہ کام عمان اور قطر کیا کرتے تھے، مگر وہ ایرانی حملوں کی زد میں آ چکے تھے۔ ایسے میں پاکستان آگے آیا۔ واشنگٹن نے بھروسہ کیا کیونکہ ٹرمپ پہلے ہی پاکستانی قیادت کا قدردان تھا۔ تہران نے بھروسہ کیا کیونکہ پاکستان نے کبھی ایران مخالف محاذ میں شمولیت اختیار نہیں کی۔ دنیا کے بڑے تھنک ٹینکس نے یاد دلایا کہ انیس سو اکہتر میں ہنری کسنجر کا خفیہ دورہ چین بھی پاکستان نے کرایا تھا۔ پچاس سال بعد پاکستان نے پھر وہی کردار ادا کیا۔ پہلے امریکہ اور چین کے درمیان پل بنایا، اب امریکہ اور ایران کے درمیان۔
اپ سب کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ یہ سب اچانک نہیں ہوا۔ دنیا میں کرشمے نہیں ہوتے، اچانک کچھ بھی نہیں ہوتا۔ ہر چیز کا ایک بیک گراونڈ، ایک تناظر ہوتا ہے۔ جب آپ فوجی اعتبار سے قابل احترام ہوں، تبھی سفارتی میز پر آپ کی کرسی پکی ہوتی ہے۔ جب آپ نے میدانِ جنگ میں ثابت کر دیا کہ آپ کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، تب دنیا آپ کو قابل اعتبار ثالث بھی مانتی ہے۔
میڈیا وار
ایک اور پہلو جس کا ذکر ضروری ہے وہ اطلاعاتی جنگ کا ہے۔ بھارت نے ہمیشہ تاثر کی جنگ جیتی اور اپنے بیانیے کو عالمی میڈیا میں ترویج دی، پاکستان اس محاذ پر اکثر پیچھے رہا۔ معرکہ حق میں پہلی بار یہ فرق نمایاں طور پر کم ہوا۔ پاکستان نے سوشل میڈیا، روایتی میڈیا اور سرکاری بیانیے کو زیادہ منظم انداز میں استعمال کیا۔ جب رافیل کا ملبہ سامنے آیا تو یہ پاکستانی بیانیے کی فتح تھی۔ بھارت کے اندر بھی اپوزیشن اور آزاد تجزیہ کاروں نے مودی حکومت سے یہ سوال پوچھنا شروع کیا کہ اگر
آپریشن سندور اتنا کامیاب تھا تو جنگ بندی کیوں مانگی؟
معرکہ حق نے پاکستانیوں کو نفسیاتی برتری دلائی
معرکہ حق کا ایک معاشی پہلو بھی ہے۔ پاکستان نے اپنی فضائی حدود بند کیں جس سے بھارتی پروازوں کے راستے طویل ہوئے، ایندھن کی لاگت بڑھی اور کئی بڑی رپورٹوں میں مالی نقصانات کا ذکر آیا۔ اکیلی یہ پابندی معاشی دباؤ کا ایک موثر ہتھیار ثابت ہوئی۔
میرے نزدیک سب سے بڑھ کر جو فائدہ ہوا، وہ ہے قومی نفسیات کی سطح پر۔قوموں کی زندگی میں بعض لمحے ایسے آتے ہیں جو معیشت سے زیادہ نفسیات بدل دیتے ہیں۔ معرکہ حق ایسا ہی ایک لمحہ تھا۔
دو ہزار انیس کے بعد سے پاکستان کئی طرح کے دباؤ میں تھا، معاشی بحران، آئی ایم ایف کی شرائط، سیاسی انتشار، بیرون ملک جانے کی لہر، نوجوانوں میں مایوسی۔ یہ سب مل کر ایک اجتماعی کیفیت بنا رہے تھے جس میں خود اعتمادی ختم ہوتی جا رہی تھی۔ جب دس مئی کو پاکستانیوں نے دیکھا کہ ہماری فوج نے رافیل گرائے، ہمارے میزائلوں نے بھارتی اڈوں کو نشانہ بنایا اور دنیا کے بڑے چینلوں پر پاکستان کا نام فتح کے ساتھ لیا جا رہا ہے تو ایک گہری اندرونی تبدیلی آئی۔ یہ محض قومی فخر نہیں تھا، یہ وہ یقین تھا کہ ہم ابھی ختم نہیں ہوئے، ہمارے اندر کچھ ہے۔
اب آگے کیا کرنا چاہیے ؟
ایمانداری سے یہ بھی کہنا ضروری ہے کہ یہ سب کچھ جمع کر کے محض خوش ہوتے رہنا کافی نہیں۔ بیرونی طاقت اور عالمی اہمیت کو داخلی استحکام کا سہارا چاہیے ہوتا ہے۔ ترقی پذیر ممالک کی تاریخ گواہ ہے کہ بیرونی جیتیں اندرونی انتشار کے ہاتھوں ضائع ہوتی رہی ہیں۔اس لئے ہمیں داخلی استحکام پر بھی فوکس کرنا چاہیے، اپنی معیشت کو بھی بہتر کرنا ہوگا۔ مقروض ملک پر مختلف دباو رہتے ہی ہیں، اگر ہم اپنی معیشت اٹھا لیں، ایکسپورٹ بڑھ جائے، غیر ملکی سرمایہ کاری آنے لگے۔ انڈسٹری، زراعت وغیرہ توانا ہوں تو ان شااللہ بہت کچھ بدل جائے گا۔
سب سے اہم یہ ہے کہ ہمیں امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ ایک برس پہلے جب اسلام آباد کی چھتوں پر سجدے ہو رہے تھے، شاید کسی نے نہیں سوچا تھا کہ ایک سال بعد پاکستان ایران اور امریکہ کے بیچ پل بنا کر بیٹھا ہوگا، غزہ امن بورڈ میں اس کی کرسی ہوگی، سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ ہوگا اور دنیا کے بڑے دارالحکومتوں میں اسلام آباد کا نام عزت سے لیا جاتا ہوگا۔
یہ سفر معرکہ حق کی روشنی سے شروع ہوا۔ اللہ کرے کہ یہ روشنی اور بڑھے، پھیلے اور اس قوم کے اندر بھی اجالا کرے جو اتنی صلاحیت رکھتی ہے، جسے بس ایک موقع درکار ہے، اپنے اتحاد کا، اپنی سمت کا، اپنے آپ پر یقین کا۔