افغانستان کے صوبہ پنجشیر کا ضلع پریان کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی خونی جھڑپوں کے بعد اس وقت شدید تناؤ کی زد میں ہے۔ اطلاعات کے مطابق طالبان حکومت نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے سینکڑوں کی تعداد میں تازہ دم دستے پنجشیر روانہ کر دیے ہیں، جس کے بعد پورے علاقے میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن اور گرفتاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔
قیادت پر دباؤ اور گرفتاریاں
حالیہ کارروائی کے دوران معروف مقامی مذہبی رہنما مولوی داد خدا کو حراست میں لے کر مبینہ طور پر شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ تجزیہ کار اس اقدام کو پنجشیر کی تاجک کمیونٹی کی قیادت کو دیوار سے لگانے اور ان کی آواز دبانے کی ایک منظم کوشش قرار دے رہے ہیں۔ اس گرفتاری کے بعد مقامی آبادی میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔
وقوع «درگیریهای شدید» در بخشهایی از پنجشیر
— پایگاه خبری قیام ملی -National Uprising News (@afg_uprising) May 8, 2026
منابع محلی میگویند که بخشهایی از ولسوالی پریان ولایت پنجشیر بامداد جمعه گواه «درگیریهای شدید» بودهاند.
به گفته این منابع، این درگیریها برای چندین ساعت داشتهاند. منابع میگویند این درگیریها در بخشهای «کوهسار» و «کور پیتاب» رخ… pic.twitter.com/DBvhFya4Ec
علاقوں کی ناکہ بندی
پنجشیر کے تاجک اکثریتی دیہات اس وقت عملی طور پر میدانِ جنگ کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ طالبان حکام نے جھڑپوں والے علاقوں تک رسائی مکمل طور پر بلاک کر دی ہے تاکہ زمینی حقائق اور مقامی برادریوں پر ہونے والے اثرات کی معلومات باہر نہ پہنچ سکیں۔ اس ناکہ بندی کے باعث مقامی باشندوں کو خوراک اور طبی سہولیات کے حصول میں بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
حقوقِ انسانی کی خلاف ورزیاں
رپورٹس کے مطابق محض دیواروں پر لکھے گئے نعروں کی بنیاد پر شہریوں کو بغیر کسی قانونی کارروائی کے اٹھایا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر پشتون علاقوں میں قانونی تحفظ کا فقدان اور اقتدار کا پشتون قیادت میں ارتکاز افغانستان میں نسلی تقسیم کو مزید گہرا کر رہا ہے۔
تشویشناک صورتحال
پنجشیر کے باشندے اس وقت سخت نگرانی اور خوف و ہراس کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ طاقت کے بے جا استعمال اور عوامی شمولیت کے بغیر نظم و نسق چلانے کی یہ پالیسی مستقبل میں بڑے عوامی ردعمل کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے پنجشیر کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔