پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید تقویت دینے کے لیے وزیرِ اعظم شہباز شریف مئی کے تیسرے ہفتے میں چین کا انتہائی اہم سرکاری دورہ کریں گے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق اس دورے کا باقاعدہ آغاز 23 مئی سے ہوگا، جس کے دوران دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور دفاعی تعاون کے نئے ایجنڈے پر دستخط متوقع ہیں۔
ملاقاتیں اور ایجنڈا
اپنے قیام کے دوران وزیرِ اعظم شہباز شریف چینی صدر شی جن پنگ اور پریمیئر لی کیانگ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعاون، علاقائی سکیورٹی کی صورتحال اور عالمی سیاسی منظرنامے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اس دورے کا بنیادی مرکز چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے دوسرے مرحلے کی رفتار کو تیز کرنا اور صنعتی زونز کے قیام میں چینی تعاون حاصل کرنا ہے۔
سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ
اس دورے کی ایک منفرد اور تاریخی اہمیت پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ ہے۔ اس تاریخی سنگِ میل کی مناسبت سے بیجنگ میں خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا جائے گا، جن میں وزیرِ اعظم شہباز شریف بطورِ خاص شرکت کریں گے۔ یہ تقریبات دونوں ممالک کے درمیان “آل ویدر فرینڈشپ” اور دہائیوں پر محیط اعتماد کے رشتے کو عالمی سطح پر اجاگر کریں گی۔
اقتصادی اور تزویراتی اہمیت
سفارتی حلقے وزیرِ اعظم کے اس دورے کو پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال کے تناظر میں کلیدی قرار دے رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، سی پیک فیز 2 کے تحت زراعت، آئی ٹی اور معدنیات کے شعبوں میں چینی سرمایہ کاری سے پاکستان میں معاشی استحکام کی نئی لہر پیدا ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، خطے میں بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتحال کے پیشِ نظر دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم کرنا بھی اس دورے کے اہم مقاصد میں شامل ہے۔