افغانستان کی طالبان حکومت نے تحریک طالبان پاکستان کی قیادت اور اعلیٰ سطح کے کمانڈرز کو دارالحکومت کابل چھوڑ کر ملک کے جنوبی حصوں میں منتقل ہونے کا حکم دے دیا ہے۔ ریڈیو فری یورپ کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ اقدام پاکستان کے ساتھ بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی کو کم کرنے کی ایک کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔
منتقلی اور غیر ملکی گروہ
ٹی ٹی پی کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ درمیانے اور اعلیٰ درجے کے کمانڈرز کابل میں اپنی رہائش گاہیں چھوڑ کر دارالحکومت کے جنوب میں واقع نامعلوم مقامات پر منتقل ہو رہے ہیں۔ اس نقل و حرکت میں صرف ٹی ٹی پی ہی نہیں بلکہ ایغور شدت پسند گروپ ‘ترکستان اسلامک پارٹی’ اور القاعدہ کے باقی ماندہ عناصر بھی شامل ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ کچھ کمانڈرز پہلے ہی کابل چھوڑ چکے ہیں جبکہ دیگر روانگی کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔
Alert: Two TTP members, who spoke to Radio free Europe on condition of anonymity, said "the group’s leadership, including mid-to-high-ranking commanders, were ordered to relocate from their residences in Kabul to a location south of the capital. Some TTP commanders have already…
— Mahaz (@MahazOfficial1) May 8, 2026
ارومچی مذاکرات اور علاقائی دباؤ
رپورٹ کے مطابق یہ اہم فیصلہ اپریل کے آغاز میں چین کے شہر ارومچی میں ہونے والے سہ فریقی مذاکرات کے بعد سامنے آیا ہے۔ ان مذاکرات میں پاکستان اور چین نے افغان طالبان پر زور دیا تھا کہ وہ اپنی سر زمین پر موجود غیر ملکی جنگجو گروہوں کی پناہ گاہوں کے معاملے کو حل کریں۔ پاکستان کا طویل عرصے سے یہ مؤقف رہا ہے کہ ٹی ٹی پی افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
پاک افغان فوجی کشیدگی کا پس منظر
گزشتہ چند ماہ کے دوران پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ رہے ہیں۔ فروری اور مارچ میں پاکستان کی جانب سے افغانستان کے اندر ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں پر کیے گئے فضائی حملوں نے دونوں ممالک کو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا۔ اقوام متحدہ کے مطابق مارچ میں کابل کے ایک ہسپتال پر ہونے والے حملے میں 100 سے زائد ہلاکتیں ہوئیں، جسے اب تک کا سب سے مہلک حملہ قرار دیا گیا۔ ان حملوں نے کابل میں طالبان کی ساکھ کو متاثر کیا، جس کے بعد طالبان قیادت اب ٹی ٹی پی کو ایک بوجھ کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
مستقبل کی صورتحال
کابل سے جبری منتقلی کے اس حکم نے ٹی ٹی پی کے اندر شدید ناراضگی پیدا کر دی ہے۔ اگرچہ افغان طالبان ٹی ٹی پی کے ساتھ گہرے نظریاتی اور قبائلی روابط رکھتے ہیں، تاہم بین الاقوامی تنہائی اور معاشی دباؤ کے باعث وہ اب اس گروہ کو مکمل پناہ دینے سے ہچکچا رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ منتقلی عارضی طور پر پاکستان کے ساتھ کشیدگی تو کم کر سکتی ہے، لیکن ٹی ٹی پی کے مکمل خاتمے کے حوالے سے اب بھی شکوک و شبہات برقرار ہیں۔