"> میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی
مسئلہ کشمیر کے نام پر اقتدار کا کھیل بند کرو: چودھری طارق فاروق کا فسادی کمیٹی کو انتباہ

مسئلہ کشمیر کے نام پر اقتدار کا کھیل بند کرو: طارق فاروق کا فسادی کمیٹی کو انتباہ

چودھری طارق فاروق کا فسادی کمیٹی کو شدید انتباہ؛ مسئلہ کشمیر کو سیاسی مفادات اور ذاتی اقتدار کی ڈھال بنانا بند کیا جائے۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کو بنیادی حقوق، آئینی تحفظ اور معاشی ترقی دی جائے۔

یورپی یونین کی فنڈنگ پر پاکستانی میڈیا ادارے کی سرگرمیاں، ایجنڈے پر سوالات

میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی کے یورپی یونین سے مالی تعاون اور میڈیا قوانین، صحافیوں کی تربیت اور ڈیجیٹل حقوق سے متعلق منصوبوں کی تفصیلات سامنے آگئیں۔
یورپی یونین کی فنڈنگ پر پاکستانی میڈیا ادارے کی سرگرمیاں، ایجنڈے پر سوالات

میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی کو یورپی یونین کی مالی معاونت، مختلف منصوبوں میں شراکت داری اور پاکستان میں میڈیا پالیسی سے متعلق سرگرمیوں کی تفصیلات سامنے آگئیں۔

October 31, 2026

پاکستان میں سرگرم غیر سرکاری میڈیا ادارے میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی کی یورپی یونین سے مالی معاونت اور اس کے تحت جاری سرگرمیوں کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ دستیاب دستاویزات کے مطابق ادارہ یورپی یونین کے مختلف منصوبوں میں شراکت دار رہا ہے، جبکہ حالیہ برسوں میں صحافیوں کی تربیت، میڈیا کی آزادی اور ڈیجیٹل حقوق سے متعلق پروگرام بھی منعقد کرتا رہا ہے۔

یورپی یونین کی پاکستان میں نمائندگی کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی جنوری 2017 سے جون 2020 تک جاری رہنے والے منصوبے سٹیزن انگیجمنٹ فار ریسپانسیو اینڈ اکاؤنٹیبل گورننس کے شراکت داروں میں شامل تھا۔

اس منصوبے کا مجموعی بجٹ 15 لاکھ یورو تھا، جس کا مقصد خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع میں شہریوں کی حکومتی معاملات، عوامی اخراجات اور بجٹ کی نگرانی میں شمولیت بڑھانا تھا۔ تاہم یہ رقم پورے منصوبے کا بجٹ تھا، اسے صرف میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی کی مالی معاونت قرار نہیں دیا جا سکتا۔

یورپی یونین کی معاونت سے حالیہ سرگرمیاں

میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی کی اپنی ویب سائٹ پر شائع کردہ معلومات کے مطابق ستمبر 2025 میں کراچی میں وکلا کے لیے میڈیا کی آزادی، قانونی حقوق اور اظہارِ رائے سے متعلق دو روزہ مشاورتی ورکشاپ کا اعلان کیا گیا، جسے یورپی یونین کی معاونت حاصل تھی۔

اسی طرح جولائی 2026 میں ادارے نے خیبر پختونخوا کے صحافیوں کے لیے پشاور میں خصوصی تربیتی پروگرام کا اعلان کیا۔ یہ تربیت 4 سے 6 اگست تک جاری رہنا تھی، جس میں صحافیوں کو جسمانی تحفظ، ڈیجیٹل سکیورٹی اور نفسیاتی دباؤ سے نمٹنے کے طریقے سکھانے کا منصوبہ تھا۔ ادارے نے اس پروگرام کے لیے بھی یورپی یونین پاکستان کی معاونت کا ذکر کیا۔

میڈیا قوانین اور پالیسی سازی میں کردار

اس معاملے کا ایک اہم پہلو سول سوسائٹی فار انڈیپنڈنٹ میڈیا اینڈ ایکسپریشن (CIME) منصوبے سے متعلق دستاویزات ہیں۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق دسمبر 2022 میں سینٹر فار پیس اینڈ ڈیولپمنٹ انیشی ایٹوز (CPDI) کی جانب سے جاری کردہ منصوبے کی جانچ کے لیے شرائطِ کار کی دستاویز میں میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی کو عمل درآمد کرنے والے شراکت داروں میں شامل کیا گیا تھا۔

اس منصوبے کے تحت میڈیا قوانین سے متعلق مباحث کو متاثر کرنے، صحافیوں اور ڈیجیٹل حقوق کے کارکنوں کی معاونت اور پارلیمنٹیرینز و سرکاری اداروں کے ساتھ ضابطہ جاتی اصلاحات پر رابطوں جیسی سرگرمیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

دستاویز میں منصوبے کو یورپی یونین کی ترجیحات کے مطابق تشکیل دیے جانے کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ تاہم اس سے کسی غیر قانونی سرگرمی یا قومی مفادات کے خلاف کام کرنے کا نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔

شفافیت اور جواب دہی کا سوال

یورپی یونین کی مالی معاونت سے چلنے والے منصوبوں اور ان کے مقاصد کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد یہ سوال اہمیت اختیار کرتا ہے کہ پاکستان میں ایسے اداروں کی فنڈنگ، منصوبوں کے اہداف اور پالیسی سرگرمیوں کی نگرانی کا کیا طریقہ کار موجود ہے۔

غیر ملکی مالی معاونت حاصل کرنے والے اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے منصوبوں، اخراجات، شراکت داروں اور سرگرمیوں کی تفصیلات شفاف انداز میں سامنے رکھیں۔ اسی طرح یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ بیرونی معاونت سے چلنے والے منصوبوں میں ملکی ضروریات اور ترجیحات کو کس طرح ملحوظ رکھا جاتا ہے۔

یہ معاملہ محض فنڈنگ تک محدود نہیں بلکہ پاکستان میں میڈیا، اظہارِ رائے اور پالیسی سازی کے شعبوں میں بیرونی مالی معاونت کے کردار اور اس کی نگرانی سے متعلق وسیع تر بحث کا تقاضا کرتا ہے۔

متعلقہ مضامین

اڈیالہ جیل میں پمز کے ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی فالو اَپ چیکنگ اور ضروری طبی ٹیسٹ مکمل کیے۔

October 31, 2026

چودھری طارق فاروق کا فسادی کمیٹی کو شدید انتباہ؛ مسئلہ کشمیر کو سیاسی مفادات اور ذاتی اقتدار کی ڈھال بنانا بند کیا جائے۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کو بنیادی حقوق، آئینی تحفظ اور معاشی ترقی دی جائے۔

October 31, 2026

پشاور میں مولانا فضل الرحمٰن کے مدارس اور سیاسی ہیڈکوارٹر کی قانونی حیثیت، بجلی و گیس کی سبسڈی اور ٹی ٹی پی سے مبینہ تعلقات پر سوالات اٹھائے گئے۔

October 31, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *