غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میرواعظ عمر فاروق نے مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے بگڑتی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق میرواعظ عمر فاروق نے سرینگر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی کارروائیاں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں اور اس سے خطہ ایک خطرناک صورتحال کی طرف بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک آزاد ملک پر حملے کے دوران شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور معصوم جانیں ضائع ہو رہی ہیں جبکہ عالمی برادری اور اقوام متحدہ سمیت عالمی ادارے اس جارحیت کو روکنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔
میرواعظ عمر فاروق نے جامع مسجد سرینگر پر عائد پابندیوں پر بھی شدید ردعمل ظاہر کیا اور کہا کہ وادی کی مرکزی عبادت گاہ تک لوگوں کی رسائی کو بار بار روکا جا رہا ہے، یہاں تک کہ اہم مواقع پر بھی مسجد کو بند کر دیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خود کو عوامی نمائندے کہنے والے سیاسی رہنما اس معاملے پر خاموش ہیں اور انہیں چاہیے کہ وہ کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے آواز اٹھائیں۔
اس سے قبل میرواعظ عمر فاروق نے سرینگر میں مسجد بلال کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے رمضان المبارک میں تجارت اور کاروبار میں دیانت داری اور انصاف کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام حلال ذرائع سے تجارت کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور ایماندار تاجر کو بلند مقام عطا کرتا ہے۔
دیکھئیے:مقبوضہ جموں وکشمیر: شادی کی تقریب میں فاروق عبداللہ پر قاتلانہ حملہ ناکام