حالیہ دنوں میں امریکی تجزیہ کار مائیکل کوگلمین کی جانب سے 31 جنوری کو بلوچستان میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے تناظر میں بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے بیانیے کی بالواسطہ توثیق نے سنجیدہ سوالات کو جنم دیا ہے۔ جنوبی ایشیا کے امور پر خود کو ماہر قرار دینے والے کوگلمین نے کیہ بلوچ کے ایک مضمون کو شیئر کرتے ہوئے ایسے دلائل اپنائے جو نہ صرف حقائق سے کمزور ہیں بلکہ ان کی سوچ پر بھی سوال اٹھاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق مائیکل کوگلمین کی حالیہ تحریریں اور تبصرے شواہد پر مبنی تجزیے کے بجائے مخصوص بیانیوں سے ہم آہنگی کا تاثر دیتی ہیں۔ بلوچستان میں نام نہاد ’’وسائل کی لوٹ مار‘‘ کا بیانیہ دہائیوں سے استعمال کیا جا رہا ہے، حالانکہ زمینی حقائق اس دعوے کی تائید نہیں کرتے۔ قدرتی گیس کے سوا بلوچستان سے کوئی بڑی معدنی یا اسٹریٹجک دولت ایسی نہیں جو وسیع پیمانے پر نکالی گئی ہو، جبکہ بیشتر معدنی وسائل اب تک دریافت یا قابلِ استعمال مرحلے تک ہی نہیں پہنچ سکے۔
تاریخی حقائق بھی اس بیانیے کی نفی کرتے ہیں۔ بلوچستان میں سرداروں کی قیادت میں بغاوتیں اور مسلح مزاحمت 1950، 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں بھی ہوئیں، اس وقت نہ سی پیک تھا اور نہ ہی کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ۔ اس دور میں وسائل کی کوئی ایسی لوٹ مار موجود نہیں تھی جسے عوامی محرومی کی بنیادی وجہ قرار دیا جا سکے۔ یہ بغاوتیں دراصل طاقت کی سیاست، مرکز اور صوبے کے درمیان اختیارات کی کشمکش اور انتظامی انضمام کی مزاحمت کا نتیجہ تھیں۔
تجزیہ کار اس امر کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ کوگلمین اس بنیادی حقیقت کو نظرانداز کر رہے ہیں کہ پاکستان نے سوئی گیس کی پیداوار پر بلوچستان حکومت کو باقاعدہ رائلٹی ادا کی۔ سوال یہ ہے کہ جن سرداروں کے ہاتھ میں دہائیوں تک صوبائی سیاست رہی، انہوں نے ان وسائل کو عوامی فلاح، تعلیم یا صحت پر کیوں خرچ نہیں کیا؟ اس پہلو کو نظرانداز کر کے تمام ذمہ داری ریاست پر ڈال دینا ایک ادھورا اور گمراہ کن تجزیہ ہے۔
عالمی تجزیہ کاروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ دہشت گردی اور سیاسی اختلاف میں واضح فرق کریں۔ شواہد کو نظرانداز کر کے ایسے بیانیوں کو تقویت دینا نہ صرف بلوچستان کے عام شہریوں کے ساتھ ناانصافی ہے بلکہ تشدد کو جواز فراہم کرنے کے مترادف بھی ہے۔
دیکھیے: آپریشن ہیروف ناکام: پاکستانی فورسز کی فتح اور درپیش چیلنجز