مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے بادل چھٹنے کی امید پیدا ہو گئی ہے اور اس ضمن میں پاکستان کی سفارتی کوششیں حتمی نتیجے کی جانب گامزن ہیں۔ ایرانی سفارت خانے نے ایچ ٹی این کو آگاہ کیا ہے کہ پاکستان کی مخلصانہ ثالثی کے نتیجے میں فریقین کے مابین معاہدہ تقریباً طے پا چکا ہے اور تمام تزویراتی معاملات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔
مذکورہ تاریخی ڈیل کا باضابطہ اعلان اب کسی بھی وقت سامنے آنے کی توقع ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطہ ایک جنگ کے دہانے پر کھڑا تھا۔
اسلامی ممالک کو اہم پیغام
ایچ ٹی این ذرائع کے مطابق سفارتی محاذ پر ایران نے اپنے برادر اسلامی ممالک سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو بھی اعتماد میں لینے کی کوشش کی ہے۔ اقوامِ متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے سلامتی کونسل اور یو این سیکرٹری جنرل کو لکھے گئے خطوط میں زور دیا ہے کہ برادر ممالک اپنی سرزمین کو ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی کاروائی کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔ یہ مطالبہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان کی ثالثی کے ساتھ ساتھ ایران علاقائی استحکام کے لیے مسلم امہ کے اتحاد کا بھی خواہاں ہے۔
پاکستان کی کامیاب سفارتکاری
عالمی مبصرین پاکستان کی اس کامیابی کو اسلام آباد کے بڑھتے ہوئے بین الاقوامی اثر و رسوخ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے ایران اور عرب ممالک کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے سے نہ صرف خطے میں استحکام آئے گا بلکہ پاکستان کا ایک مؤثر اور غیر جانبدار ثالث کے طور پر مقام مزید مستحکم ہوگا۔ ایرانی سفارت خانے کے ذریعے کی جانب سے ایچ ٹی این کو فراہم کردہ یہ معلومات اس حقیقت پر مہر ثبت کرتی ہیں کہ پاکستان مشرقِ وسطٰی میں قیامِ امن کے لیے ایک ناگزیر قوت بن کر ابھرا ہے۔