پاکستان میں لاپتا افراد اور جبری گمشدگیوں کا موضوع ایک طویل عرصے سے بعض سیاسی اور غیر ملکی عناصر کی جانب سے ریاست کو بلیک میل کرنے اور قومی اداروں کی بدنامی کا باعث بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اعداد و شمار کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا، من گھڑت کہانیاں بنانا اور بلا تحقیق ہر لاپتا شخص کا ملبہ ریاست اور اس کے سیکیورٹی اداروں پر ڈال دینا ایک باقاعدہ فیکشنل بیانیہ بن چکا ہے۔
تاہم حال ہی میں حکومت پاکستان کی جانب سے سامنے آنے والی جامع اور تفصیلی دستاویز نے اس تمام بے بنیاد واویلے اور جھوٹے پراپیگنڈے کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے اور یہ ثابت کر دیا ہے کہ ریاست اس معاملے پر نہ صرف سنجیدہ ہے بلکہ نہایت شفاف اور قانونی انداز میں پیشرفت کر رہی ہے۔
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق، کمیشن آف انکوائری آن انفورسڈ ڈس اپیئرنسز کے پاس درج شدہ مجموعی طور پر 11 ہزار 35 کیسز میں سے 9 ہزار 596 کیسز کامیابی سے حل کیے جا چکے ہیں۔ حل شدہ کیسز کی یہ شرح 86.95 فیصد بنتی ہے، جو اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ ریاست اور اس سے متعلقہ کمیشن دن رات قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے کام کر رہے ہیں۔ خاص طور پر بلوچستان کے حوالے سے جو منفی اور گمراہ کن تاثر قائم کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے، اعداد و شمار اس کے بالکل برعکس کہانی بیان کرتے ہیں۔
بلوچستان میں درج شدہ 2,970 کیسز میں سے 2,797 حل کیے جا چکے ہیں، یعنی صوبے میں کیسز کے تصفیے کی شرح 94 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔ یہ اعداد و شمار ان عناصر کے منہ پر ایک طمانچہ ہیں جو بلوچستان کے نام پر مسلسل جھوٹا واویلا مچاتے اور بیرون ملک بیٹھ کر ریاست مخالف ایجنڈے کو ہوا دیتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ہر لاپتا فرد کا کیس جبری گمشدگی کا نتیجہ نہیں ہوتا۔ حکومت کی فراہم کردہ دستاویز نے اس انسانی پہلو کے متعدد دیگر رخ بھی واضح کیے ہیں۔ بہت سے افراد یا تو روزگار کی تلاش میں غیر قانونی طور پر بیرون ملک چلے جاتے ہیں، یا ذاتی و خاندانی تنازعات کے باعث گھر چھوڑ دیتے ہیں۔
اسی طرح ایک بڑی تعداد ان افراد کی بھی ہے جو خود ساختہ طور پر کالعدم اور دہشت گرد تنظیموں میں شمولیت اختیار کر کے روپوش ہو جاتے ہیں یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مقابلے میں مارے جاتے ہیں، لیکن ان کے خاندان یا سہولت کار ان کا نام لاپتا افراد کی فہرست میں شامل کرا دیتے ہیں۔ ایسی صورتِ حال میں تمام تر ذمہ داری ریاست پر ڈال دینا اور اداروں پر انگلی اٹھانا ناانصافی اور حقائق سے نظریں چرانے کے مترادف ہے۔
مزید برآں، یہ بات بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ لاپتا افراد کا مسئلہ صرف پاکستان تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک عالمی چیلنج ہے۔ دنیا کے مہذب ترین اور ترقی یافتہ ممالک جیسے امریکا، برطانیہ، بھارت اور میکسیکو میں سالانہ لاکھوں افراد لاپتا ہوتے ہیں۔ امریکا میں ہر سال پانچ لاکھ اور برطانیہ میں تین لاکھ کے قریب افراد کے لاپتا ہونے کی رپورٹس درج ہوتی ہیں۔ لیکن وہاں ان واقعات کو ریاستی اداروں کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جاتا، جبکہ پاکستان میں مخصوص مفاد پرست گروہ اس معاملے کو محض سیاسی مقاصد اور اداروں کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
ریاستِ پاکستان نے نہ صرف تحقیقاتی طریقہ کار کو چار مرحلوں پر مشتمل ایک جامع نظام (JITs، صوبائی ٹاسک فورسز اور کمیشن) کے ذریعے شفاف بنایا ہے، بلکہ متاثرہ خاندانوں کی مالی معاونت کے لیے 5 ارب روپے کا فنڈ بھی مختص کیا ہے جس کے تحت مستحق خاندانوں کو 50 لاکھ روپے فی کس امدادی پیکیج دیا جا رہا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ، انسدادِ دہشت گردی قوانین میں ضروری ترامیم اور فیس لیس کورٹس جیسے جدید اقدامات کے ذریعے گواہوں اور عدالتی عملے کی حفاظت کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے تا کہ قانونی عمل شفاف طریقے سے آگے بڑھ سکے۔
ان تمام حقائق، قانونی اصلاحات اور ٹھوس اقدامات کی روشنی میں یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ حکومت اور سیکیورٹی ادارے اس حساس مسئلے کے حل کے لیے پور خلوص اور مؤثر کارروائی کر رہے ہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ لاپتا افراد کے نام پر کی جانے والی منفی سیاست، بے بنیاد الزامات اور بلاجواز واویلے کو بند کیا جائے اور حقائق پر مبنی ریاستی اقدامات کا اعتراف کرتے ہوئے ملک میں امن و امان اور قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کیا جائے۔





