بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کا حالیہ دورۂ یورپ اندرون اور بیرونِ ملک شدید تنقید کی زد میں آ گیا ہے۔ دورے کے دوران مودی کی جانب سے اہم بین الاقوامی امور اور سنجیدہ فکری سوالات کا جواب دینے سے مسلسل گریز کیا گیا، جس کے بعد مبصرین اور عوامی حلقوں میں بھارتی قیادت کے غیر سنجیدہ رویے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق یورپ کے اس اہم دورے کے دوران جہاں مودی سے عالمی توازن اور ملکی صورتحال پر سنجیدہ جوابات کی توقع کی جا رہی تھی، وہاں انہوں نے سیلفیز، مصنوعی مسکراہٹوں اور غیر سنجیدہ اندازِ گفتگو کو ترجیح دی۔ اہم ترین فورمز پر ٹھوس موقف پیش کرنے کے بجائے مودی کا یہ سطحی انداز سفارتی حلقوں کے لیے بھی مایوسی کا باعث بنا، جس سے یہ تاثر گہرا ہوا ہے کہ بھارتی قیادت بین الاقوامی برادری کے چبھتے ہوئے سوالات کا سامنا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔
دوسری جانب اس طویل غیر ملکی دورے پر ہونے والے بے جا اخراجات نے بھارتی عوام میں شدید غم و غصہ پیدا کر دیا ہے۔ مودی نے اپنے قریبی وزارتی حلقے اور بھاری بھرکم وفد کے ساتھ یہ طویل دورہ کیا، جس کے باعث بھارتی عوام کے ٹیکس کے کروڑوں روپے بے دریغ اڑا دیے گئے۔ معاشی مشکلات کے شکار عوام کے پیسے کا یہ زیاں داخلی سطح پر مودی حکومت کے خلاف ایک بڑا سیاسی بحران بنتا جا رہا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی کے اس دورے نے نئی دہلی کی جانب سے کیے جانے والے نام نہاد دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعوؤں کو مزید کھوکھلا کر دیا ہے اور یہ دعوے اب شدید ترین سوالات کی زد میں ہیں۔ اس صورتحال نے بھارتی دانشوروں اور رائے عامہ کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ بھارت کو عالمی سطح پر اپنے وقار کی بحالی کے لیے اب ایک پختہ کار، سنجیدہ اور بہتر قیادت کی اشد ضرورت ہے۔