جامعہ الرشید کے مہتمم مفتی عبدالرحیم نے افغان طالبان کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مساجد میں دھماکوں اور شہریوں کے قتل پر خاموش رہنا شرعاً حرام ہے۔ مصلحت پسندی سے حملہ آوروں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔
مفتی عبدالرحیم نے واضح کیا کہ افغان طالبان براہ راست پاکستان کے خلاف سرگرم ہیں۔ کالعدم ٹی ٹی پی اور بی ایل اے دراصل افغان طالبان کے مہرے ہیں۔ یہ گروہ کابل انتظامیہ کی مکمل سرپرستی میں کارروائیاں کر رہے ہیں۔
محفوظ پناہ گاہوں کی فراہمی
انہوں نے الزام لگایا کہ افغان طالبان نے جنگجوؤں کو افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رکھی ہیں۔ شدت پسندوں کے خاندانوں کو باقاعدہ ماہانہ وظائف اور افغان شناختی کارڈ جاری کیے جاتے ہیں۔ زخمی جنگجوؤں کا علاج کابل اور قندھار کے سرکاری ہسپتالوں میں کروایا جاتا ہے۔
مفتی عبدالرحیم کے مطابق افغان طالبان جدید اسلحہ اور بارود پاکستان اسمبل کرنے میں مدد دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغان سرزمین استعمال نہ ہونے کے دعوے سراسر جھوٹ ہیں۔ افغان طالبان کے یہ اقدامات کھلی بدعہدی اور دھوکہ دہی ہیں۔
دیکھیے: انتظامی فاصلے اور بڑھتی آبادی: 76 فیصد نوجوانوں نے نئے صوبوں کی حمایت کر دی