مشاہد حسین کا حالیہ دعویٰ تاریخی حقائق کے بالکل منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے سی آئی اے کے کہنے پر اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کو تربیت دی۔ دستاویزی شواہد اس دعوے کو مکمل طور پر بے بنیاد ثابت کرتے ہیں۔
سوویت افغان جنگ میں سی آئی اے نے افغان مجاہدین کی مالی مدد کی۔ پاکستان اس امداد کی ترسیل کا اہم ذریعہ تھا۔ یہ ایک تاریخی اور دستاویزی حقیقت ہے۔ تاہم پاکستان نے اسامہ بن لادن یا ایمن الظواہری کو کوئی تربیت نہیں دی۔
اسامہ بن لادن
اسامہ بن لادن افغانستان میں ایک الگ نیٹ ورک سے وابستہ تھا۔ وہ عبداللہ عزام اور مکتب الخِدمات کے رضاکاروں کے ساتھ کام کرتا تھا۔ اس گروہ کو نجی عرب ذرائع سے مالی مدد ملتی تھی۔
امریکی نائن الیون کمیشن نے اہم حقائق واضح کیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسامہ بن لادن کو امریکا سے کوئی مدد نہیں ملی۔ اسی طرح پاکستان نے بھی اسے کوئی عسکری تربیت فراہم نہیں کی۔
ایمن الظواہری کی افغانستان آمد
ایمن الظواہری کسی تربیتی پروگرام کے ذریعے افغانستان نہیں پہنچا۔ وہ مصری اسلام پسند گروہوں اور طبی امدادی نیٹ ورک کے ذریعے آیا۔ اس کی آمد میں پاکستان کا کوئی کردار نہیں تھا۔
افغان جنگ نے ایسا ماحول بنایا جس میں یہ افراد سرگرم ہوئے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ پاکستان نے انہیں تربیت دی۔ سی آئی اے کی ہدایت پر تربیت کا دعویٰ سراسر غلط ہے۔
حساس معاملات پر بیانات دیتے وقت احتیاط ضروری ہے۔ غیر مصدقہ دعوے پاکستان کے مؤقف کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ایسے بیانات سے مخالفین کے بیانیے کو تقویت ملتی ہے۔