ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال نے ملک میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کو ناگزیر قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی بقا، بہتر حکمرانی اور عوام کے بنیادی مسائل کا حل موجودہ انتظامی ڈھانچے کی تبدیلی میں مضمر ہے۔
کراچی کے علاقے کورنگی میں عوامی رابطہ مہم کے دوران خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اعلان کیا کہ نئے انتظامی یونٹس کا مطالبہ اب ایک عوامی تحریک کی شکل اختیار کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چھ ہفتے بعد شارع فیصل پر ہر زبان بولنے والے شہری اپنے انتظامی یونٹ کے حق کے لیے سڑکوں پر نکلیں گے۔
مصطفیٰ کمال نے زور دیا کہ اختیارات کی عدم تقسیم اور ناقص انتظامی ڈھانچے کے باعث کراچی کے نوجوانوں کی حق تلفی ہو رہی ہے۔ جعلی ڈومیسائل کے ذریعے شہری کوٹے پر شب خون مارا جا رہا ہے، جس سے مقامی آبادی میں محرومی کا احساس بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک مخصوص سیاسی سوچ کے تحت سندھی بھائیوں کے دلوں میں کراچی کے حوالے سے بدگمانیاں پیدا کی جا رہی ہیں۔ اختیارات کی منصفانہ تقسیم اور نئے انتظامی یونٹس ہی ان فاصلوں کو ختم کر کے شہریوں کو ان کے جائز حقوق دلوا سکتے ہیں۔
بنیادی سہولیات کی کمی
ایم کیو ایم کے رہنما نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 18 برس کے دوران سندھ حکومت کو 22 ہزار ارب روپے کے خطیر فنڈز موصول ہوئے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اتنے بڑے بجٹ کے باوجود صوبے اور خاص طور پر کراچی کی حالت کیوں نہیں بدلی؟
انہوں نے کہا کہ اگر یہ فنڈز شفاف اور نچلی سطح تک مؤثر انداز میں خرچ ہوتے تو بنیادی ڈھانچے کی حالت تسلی بخش ہوتی۔ وسائل کے غلط استعمال اور مرکزی سطح پر اختیارات کے ارتکاز نے عوام کو بنیادی سہولیات سے بھی محروم کر دیا ہے۔
انتظامی ناکامی
مصطفیٰ کمال نے کراچی میں پینے کے صاف پانی کی شدید قلت پر بھی سخت تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پانی کے بحران کے ذمہ دار بعض عناصر خود ٹینکر مافیا سے ملے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے شہریوں کو لائنوں سے پانی نہیں ملتا۔
ان کا کہنا تھا کہ آج بھی بچے کھلے گٹروں اور آوارہ کتوں کے حملوں کا شکار ہو رہے ہیں، جو موجودہ انتظامی نظام کی واضح ناکامی کا ثبوت ہے۔ جب تک ملک بھر میں نئے انتظامی یونٹس نہیں بنائے جاتے، عوامی مسائل کا پائیدار حل ممکن نہیں ہوگا۔