لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

مولانا فضل الرحمٰن کا بیانیہ دینی مدارس کا مؤقف نہیں، متحدہ مدارس کونسل کا اعلان

متحدہ مدارس کونسل نے پاک فوج اور شہداء کے حوالے سے مولانا فضل الرحمٰن کے بیانات کو ان کا ذاتی سیاسی مؤقف قرار دیتے ہوئے مدارس اور علما کے باضابطہ بیانیے سے الگ کر دیا۔
مولانا فضل الرحمٰن کا بیانیہ دینی مدارس کا مؤقف نہیں، متحدہ مدارس کونسل کا اعلان

متحدہ مدارس کونسل نے مولانا فضل الرحمٰن کے پاک فوج اور شہداء سے متعلق بیانات سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ ان کا ذاتی سیاسی مؤقف ہے۔

July 21, 2026

متحدہ مدارس کونسل پاکستان نے دوٹوک اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے پاک فوج اور شہدائے پاکستان سے متعلق اختیار کیا گیا مؤقف محض ان کا ذاتی اور سیاسی بیانیہ ہے، جس کا ملک کے دینی وفاقوں، مدارس اور تعلیمی بورڈز کی اجتماعی رائے سے کوئی تعلق نہیں۔

کونسل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے دینی مدارس، مساجد، علما، ائمہ و خطبا اور طلبہ ریاست مخالف سرگرمیوں، قومی اداروں کے خلاف مہمات اور شہداء کی قربانیوں کی تحقیر سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کرتے ہیں۔ بیان میں زور دیا گیا ہے کہ دینی مدارس ہمیشہ سے پاکستان کی نظریاتی، فکری اور جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ، امن، اعتدال اور قومی استحکام کے مضبوط قلعے رہے ہیں۔

مشترکہ قیادت نے اعادہ کیا کہ پاک فوج کے شہداء اور غازی پوری قوم کے ہیرو اور ملی افتخار کی علامت ہیں۔ وطنِ عزیز کے دفاع کی خاطر دی جانے والی ان کی بے مثال قربانیوں کے خلاف کوئی بھی منفی بیانیہ کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔

علما نے واضح کیا کہ مدارس، مساجد اور طلبہ کا نام سیاسی اختلافات اور ریاستی اداروں کے خلاف مہمات میں استعمال کرنا حقائق کے بالکل منافی اور دینی طبقے کے ساتھ ناانصافی ہے۔

مختلف دینی وفاقوں اور تعلیمی بورڈز کے نمائندہ رہنماؤں نے کہا کہ کسی بھی مذہبی یا سیاسی جماعت کے ذاتی بیانات کو پورے دینی نظامِ مدارس پر تھوپا نہیں جا سکتا۔ تمام تعلیمی بورڈز اور علما شہداء، غازیوں، پاک فوج اور قومی سلامتی کے اداروں کی لازوال خدمات کو قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ان کے وقار کو ہر قسم کے سیاسی تنازعات سے بالاتر سمجھتے ہیں۔

کونسل نے مطالبہ کیا کہ دینی مدارس کو سیاسی کشمکش میں گھسیٹنے کے بجائے ان کے حقیقی کردار یعنی امن، حب الوطنی، اعتدال، قومی یکجہتی اور تعلیمی خدمات کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔

مولانا فضل الرحمٰن کے بیان سے مدارس کی اجتماعی لاتعلقی اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ شہداء کا احترام پوری قوم کا مشترکہ اثاثہ ہے اور تمام سیاسی قیادت کو اپنے بیانات کی ذمہ داری خود قبول کرنی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *