متحدہ مدارس کونسل پاکستان نے دوٹوک اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے پاک فوج اور شہدائے پاکستان سے متعلق اختیار کیا گیا مؤقف محض ان کا ذاتی اور سیاسی بیانیہ ہے، جس کا ملک کے دینی وفاقوں، مدارس اور تعلیمی بورڈز کی اجتماعی رائے سے کوئی تعلق نہیں۔
کونسل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے دینی مدارس، مساجد، علما، ائمہ و خطبا اور طلبہ ریاست مخالف سرگرمیوں، قومی اداروں کے خلاف مہمات اور شہداء کی قربانیوں کی تحقیر سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کرتے ہیں۔ بیان میں زور دیا گیا ہے کہ دینی مدارس ہمیشہ سے پاکستان کی نظریاتی، فکری اور جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ، امن، اعتدال اور قومی استحکام کے مضبوط قلعے رہے ہیں۔
مشترکہ قیادت نے اعادہ کیا کہ پاک فوج کے شہداء اور غازی پوری قوم کے ہیرو اور ملی افتخار کی علامت ہیں۔ وطنِ عزیز کے دفاع کی خاطر دی جانے والی ان کی بے مثال قربانیوں کے خلاف کوئی بھی منفی بیانیہ کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔
علما نے واضح کیا کہ مدارس، مساجد اور طلبہ کا نام سیاسی اختلافات اور ریاستی اداروں کے خلاف مہمات میں استعمال کرنا حقائق کے بالکل منافی اور دینی طبقے کے ساتھ ناانصافی ہے۔
مختلف دینی وفاقوں اور تعلیمی بورڈز کے نمائندہ رہنماؤں نے کہا کہ کسی بھی مذہبی یا سیاسی جماعت کے ذاتی بیانات کو پورے دینی نظامِ مدارس پر تھوپا نہیں جا سکتا۔ تمام تعلیمی بورڈز اور علما شہداء، غازیوں، پاک فوج اور قومی سلامتی کے اداروں کی لازوال خدمات کو قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ان کے وقار کو ہر قسم کے سیاسی تنازعات سے بالاتر سمجھتے ہیں۔
کونسل نے مطالبہ کیا کہ دینی مدارس کو سیاسی کشمکش میں گھسیٹنے کے بجائے ان کے حقیقی کردار یعنی امن، حب الوطنی، اعتدال، قومی یکجہتی اور تعلیمی خدمات کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔
مولانا فضل الرحمٰن کے بیان سے مدارس کی اجتماعی لاتعلقی اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ شہداء کا احترام پوری قوم کا مشترکہ اثاثہ ہے اور تمام سیاسی قیادت کو اپنے بیانات کی ذمہ داری خود قبول کرنی چاہیے۔