نیب خیبر پختونخوا نے دو مختلف مقدمات کی تحقیقات کو آگے بڑھاتے ہوئے 8 گواہان کو طلب کر کے کال اپ نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔ نیب ذرائع کے مطابق یہ تمام نوٹسز نیشنل اکاؤنٹبیلٹی آرڈیننس (این اے او) 1999ء کی دفعہ 19 کے تحت جاری کیے گئے ہیں۔
پہلے مقدمے میں سابق وفاقی وزیر مراد سعید کے خلاف بے نامی جائیدادوں کی خرید و فروخت میں بدعنوانی اور کرپٹ پریکٹسز کے الزامات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ اس سلسلے میں نیب نے 3 گواہان کو 27 اور 28 اکتوبر کو نیب دفاتر میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
دوسرے مقدمے میں سائنسی و تکنیکی تعلیم کے معاملے سمیت معاون خصوصی برائے ہاؤسنگ، ایم پی اے ڈاکٹر امجد علی کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کی تفتیش جاری ہے۔ نیب کے پی نے اس کیس میں 5 گواہان کو 20 سے 22 اکتوبر کے دوران پیشی کی ہدایت کی ہے۔

ڈاکٹر امجد علی کے خلاف جاری انکوائری میں نیب نے چار گواہان باچا سید، محمد عارف شاہ، سراج احمد اور نوید احمد کو طلب کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی نیب نے ایٹین ہاؤسنگ سوسائٹی اسلام آباد اور جلوزئی ہاؤسنگ سکیم کے بارے میں پلاٹوں کی الاٹمنٹ، ملکیت اور ادائیگیوں کے تمام ریکارڈز بھی طلب کر لیے ہیں۔
نیب نے اکاؤنٹنٹ جنرل خیبر پختونخوا کے دفتر کو ہدایت جاری کی ہے کہ ڈاکٹر امجد کے تنخواہ، مراعات، الاؤنسز اور سفری اخراجات کا مکمل ریکارڈ فراہم کیا جائے۔ نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ عدم تعاون یا پیش نہ ہونے کی صورت میں قانون کے مطابق قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔





