پاکستان کے یومِ آزادی کے موقع پر ناگالینڈ کی جانب سے پاکستانی قوم کو مبارکباد کا پیغام ارسال کیا گیا ہے، جس میں دونوں خطوں کے درمیان تاریخی اور سیاسی مماثلتوں کو نمایاں کیا گیا ہے۔ ناگا رہنماؤں اور شہریوں کے مطابق ناگالینڈ اور پاکستان کے درمیان بنیادی مشترکہ قدر بھارتی بالادستی اور توسع پسندانہ عزائم کے خلاف مسلسل جدوجہد ہے۔
ناگا قوم کا ماننا ہے کہ دونوں خطوں نے تاریخ کے مختلف ادوار میں نئی دہلی کی تسلط پسندانہ پالیسیوں کا کامیابی سے مقابلہ کیا ہے اور بھارتی حکمرانوں کو متعدد محاذوں پر سیاسی و عسکری ہزیمت سے دوچار کیا ہے
مماثلت
ناگالینڈ کے خودمختار نیشنلسٹ گروپس کے مطابق 14 اگست کا دن دونوں اقوام کے لیے انتہائی اہم ہے، کیونکہ ناگا قوم نے بھی برطانیہ سے بھارت کو اقتدار کی منتقلی سے درست ایک دن قبل، یعنی 14 اگست 1947 کو اپنی آزاد حیثیت کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد سے وہ نئی دہلی کے جبر کے خلاف نبرد آزما ہیں۔
پیغام میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی موجودہ قیادت کا 56 انچ کے سینے کا دعویٰ اندرونی حقیقتوں اور متوقع زوال کو چھپانے میں ناکام رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کی جانب سے دیگر اقلیتوں اور خودمختار خطوں کے جذبات کو دبانے کی پالیسی نے خود اس کے اپنے جغرافیائی اور سیاسی استحکام کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
سیکولر بھارت
سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں ایک ناگا لڑکی کی جانب سے بھارتی پرچم کو آگ لگانے کی تصویر اور علامتی مناظر کو بھی شدید بحث کا موضوع بنایا جا رہا ہے۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قدم دراصل اس سیکولر بھارت کی راکھ کی عکاسی کرتا ہے جسے گزشتہ ایک دہائی سے جاری بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قوم پرستانہ اور شدت پسندانہ پالیسیوں نے جلا کر خاکستر کر دیا ہے۔
شمال مشرقی ریاستوں میں مسلسل بڑھتی ہوئی بے چینی، نسلی تصادم اور ہندو توا نظریات کے نفاذ نے بھارت کی داخلی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں ناگالینڈ سمیت مختلف خطوں میں آزادی اور خودمختاری کی تحریکیں ایک بار پھر شدت اختیار کر رہی ہیں۔