بھارت میں قومی میڈیکل داخلہ امتحان کے پرچے لیک ہونے اور مبینہ بدعنوانی کے خلاف جاری احتجاج نے پرتشدد رخ اختیار کر لیا ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی کی کال پر مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے لیے پارلیمنٹ کے قریب ہزاروں مظاہرین جمع ہوئے، جہاں ان کی پولیس سے شدید جھڑپیں ہوئیں۔
مظاہرین کو روکنے کے لیے پولیس کی جانب سے آنسو گیس کے شیل فائر کیے گئے اور شدید لاٹھی چارج کیا گیا۔ سکیورٹی حکام کا دعویٰ ہے کہ ہجوم نے رکاوٹیں توڑنے اور اہلکاروں پر پتھراؤ کرنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں متعدد پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔
احتجاج کے دوران مظاہرین کی جانب سے حکومت اور پارلیمنٹ کے خلاف سخت نعرے بازی بھی کی گئی۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں ایک نوجوان کو یہ کہتے ہوئے دیکھا گیا ہے کہ اگر استعفیٰ نہ دیا گیا تو پارلیمنٹ اکھاڑ دیں گے اور بھارت کو نیپال بنا دیں گے۔
عوامی اور سماجی حلقوں نے طلبہ کے خلاف سکیورٹی فورسز کے استعمال پر مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ سوشل میڈیا پر صارفین کا کہنا ہے کہ پرامن مظاہرین پر تشدد سے حکومت کی بزدلی ظاہر ہوتی ہے اور اب حکمرانوں کے لیے رخصت ہونے کا وقت قریب آ چکا ہے۔