نیپال اور تبت کی سرحد پر آنے والے تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے اب تک کم از کم 273 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ سینکڑوں افراد تاحال لاپتہ ہیں، جن میں بڑی تعداد غیر ملکی سیاحوں کی ہے۔
نیپالی پولیس کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 273 ہوگئی ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں سے 64 افراد کی لاشیں ضلع چتوان کے نشیبی علاقوں سے جبکہ 26 افراد کی لاشیں نوال پراسی ایسٹ سے برآمد ہوئی ہیں۔ لاپتہ افراد میں 28 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
لاپتہ افراد
خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہلاکتوں کی حتمی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ تلاش اور امدادی کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق کم از کم 1500 افراد اب بھی لاپتہ ہیں، جن میں 800 غیر ملکی شہری شامل ہیں، اور ان میں سے اکثر کا تعلق بھارت سے ہے۔
نیپالی وزیرِاعظم کا بیان
نیپال کے وزیرِ اعظم بیلندر شاہ کے مطابق اس سانحے سے پورا ملک صدمے میں ہے۔ بعض زندہ بچ جانے والوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے اہلِ خانہ کو سیلابی ریلے میں بہتے دیکھا۔
متاثرہ علاقوں میں تقریباً آٹھ ٹن امدادی سامان روانہ کیا جا چکا ہے۔ امریکا، چین، یورپی یونین اور بھارت ان ممالک میں شامل ہیں جنہوں نے امداد فراہم کرنے یا امدادی سامان بھیجنے کا وعدہ کیا ہے۔
سیلاب کی اصل وجہ
حکام نے ابتدا میں خیال ظاہر کیا تھا کہ اچانک آنے والے سیلاب کی وجہ زلزلہ تھا، تاہم امریکی جیولوجیکل سروے کے تازہ ترین تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ علاقے میں کوئی زلزلہ نہیں آیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق گلیشیئر کے منہدم ہونے اور مٹی و پتھروں کے بڑے بہاؤ نے زلزلے جیسی سرگرمی کو جنم دیا۔
ماہرین اب بھی واقعات کی مکمل ترتیب کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ بات معلوم ہے کہ موسمیاتی تبدیلی ہمالیہ کے بعض علاقوں میں گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کا سبب بن رہی ہے، تاہم سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس مخصوص واقعے میں موسمیاتی تبدیلی کے کردار کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا ابھی قبل از وقت ہوگا۔
دیکھیے: شہباز شریف سے سعودی کاروباری وفد کی ملاقات، مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی