بلوچستان کے ضلع قلات میں فتنۃ الہندوستان سے وابستہ دہشتگردوں نے کراچی سے کوئٹہ جانے والے 3 ٹرکوں کو روک کر گاڑیاں اور 7 ٹرانسپورٹ کارکنوں کو اغوا کرلیا۔
ذرائع کے مطابق 26 اگست 2026 کو فتنۃ الہندوستان سے وابستہ 6 دہشتگردوں نے قلات کے علاقے روڈینجو میں کراچی سے کوئٹہ جانے والے 3 مزدا ٹرکوں کو روکا۔ اس دوران دہشتگرد 4 ڈرائیوروں اور 3 کنڈیکٹروں سمیت گاڑیاں بھی اغوا کرکے لے گئے۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ 3 ٹرکوں اور 7 ٹرانسپورٹ کارکنوں کا اغوا فتنۃ الہندوستان کے عوام اور معیشت دشمن ایجنڈے کو ایک بار پھر بے نقاب کرتا ہے۔ دہشتگرد عام ڈرائیوروں، کنڈیکٹروں اور ٹرانسپورٹرز کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اغوا کیے گئے کارکن کراچی سے کوئٹہ صرف روزگار کے سلسلے میں سفر کر رہے تھے۔ ان کا اغوا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دہشتگردی براہِ راست عام شہریوں، محنت کشوں اور ان کے خاندانوں کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق تجارتی ٹرانسپورٹ کو نشانہ بنانا معاشی دہشتگردی کے زمرے میں آتا ہے۔ اہم شاہراہوں پر ٹرک روک کر دہشتگرد ٹرانسپورٹرز میں خوف و ہراس پھیلانے، سپلائی چین کو متاثر کرنے اور قانونی معاشی سرگرمیوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بلوچ مفادات کے دعوے؟
اس واقعے نے دہشتگردوں کے اس دعوے کی حقیقت بھی سامنے لا دی ہے کہ وہ بلوچ مفادات کے محافظ ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ جو تنظیم محنت کشوں کو اغوا کرے اور ان کے روزگار کو متاثر کرے، وہ عوام کی نمائندگی کا دعویٰ نہیں کر سکتی۔
ایسے حملوں کے نتیجے میں ٹرانسپورٹرز، تاجروں اور کاروباری افراد کے لیے سکیورٹی اخراجات اور خطرات میں اضافہ ہوتا ہے، جس سے عام شہریوں تک ضروری اشیا کی ترسیل اور دستیابی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان کو اغوا، سڑکوں کی بندش اور خوف کی فضا نہیں بلکہ رابطوں، تجارت، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع کی ضرورت ہے۔ تجارتی ٹرانسپورٹ پر ہر حملہ صوبے کی معاشی ترقی کو براہِ راست نقصان پہنچاتا ہے۔
سکیورٹی حکام نے واضح کیا ہے کہ ریاست فتنۃ الہندوستان کے دہشتگردوں کے خلاف مسلسل کارروائیاں جاری رکھے گی۔ شہریوں، محنت کشوں، ٹرانسپورٹرز، سپلائی چین اور قانونی تجارت کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
دیکھیے: بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کا بڑا آپریشن، 19 دہشتگرد ہلاک، اہم عسکری کمانڈر گرفتار