"> قلات میں 3 ٹرک، 7 ٹرانسپورٹ کارکن اغوا
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

قلات میں فتنۃ الہندوستان کی کارروائی، 3 ٹرک اور 7 ٹرانسپورٹ کارکن اغوا

بلوچستان کے علاقے قلات میں فتنۃ الہندوستان سے وابستہ دہشتگردوں نے کراچی سے کوئٹہ جانے والے 3 ٹرک اور 7 ٹرانسپورٹ کارکنوں کو اغوا کرلیا۔
قلات میں 3 ٹرک، 7 ٹرانسپورٹ کارکن اغوا

قلات میں فتنۃ الہندوستان کے دہشتگردوں نے 3 ٹرک اور 7 ٹرانسپورٹ کارکن اغوا کرلیے، سکیورٹی ذرائع نے اسے معاشی دہشتگردی قرار دے دیا۔

August 27, 2026

بلوچستان کے ضلع قلات میں فتنۃ الہندوستان سے وابستہ دہشتگردوں نے کراچی سے کوئٹہ جانے والے 3 ٹرکوں کو روک کر گاڑیاں اور 7 ٹرانسپورٹ کارکنوں کو اغوا کرلیا۔

ذرائع کے مطابق 26 اگست 2026 کو فتنۃ الہندوستان سے وابستہ 6 دہشتگردوں نے قلات کے علاقے روڈینجو میں کراچی سے کوئٹہ جانے والے 3 مزدا ٹرکوں کو روکا۔ اس دوران دہشتگرد 4 ڈرائیوروں اور 3 کنڈیکٹروں سمیت گاڑیاں بھی اغوا کرکے لے گئے۔

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ 3 ٹرکوں اور 7 ٹرانسپورٹ کارکنوں کا اغوا فتنۃ الہندوستان کے عوام اور معیشت دشمن ایجنڈے کو ایک بار پھر بے نقاب کرتا ہے۔ دہشتگرد عام ڈرائیوروں، کنڈیکٹروں اور ٹرانسپورٹرز کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اغوا کیے گئے کارکن کراچی سے کوئٹہ صرف روزگار کے سلسلے میں سفر کر رہے تھے۔ ان کا اغوا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دہشتگردی براہِ راست عام شہریوں، محنت کشوں اور ان کے خاندانوں کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق تجارتی ٹرانسپورٹ کو نشانہ بنانا معاشی دہشتگردی کے زمرے میں آتا ہے۔ اہم شاہراہوں پر ٹرک روک کر دہشتگرد ٹرانسپورٹرز میں خوف و ہراس پھیلانے، سپلائی چین کو متاثر کرنے اور قانونی معاشی سرگرمیوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بلوچ مفادات کے دعوے؟

اس واقعے نے دہشتگردوں کے اس دعوے کی حقیقت بھی سامنے لا دی ہے کہ وہ بلوچ مفادات کے محافظ ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ جو تنظیم محنت کشوں کو اغوا کرے اور ان کے روزگار کو متاثر کرے، وہ عوام کی نمائندگی کا دعویٰ نہیں کر سکتی۔

ایسے حملوں کے نتیجے میں ٹرانسپورٹرز، تاجروں اور کاروباری افراد کے لیے سکیورٹی اخراجات اور خطرات میں اضافہ ہوتا ہے، جس سے عام شہریوں تک ضروری اشیا کی ترسیل اور دستیابی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان کو اغوا، سڑکوں کی بندش اور خوف کی فضا نہیں بلکہ رابطوں، تجارت، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع کی ضرورت ہے۔ تجارتی ٹرانسپورٹ پر ہر حملہ صوبے کی معاشی ترقی کو براہِ راست نقصان پہنچاتا ہے۔

سکیورٹی حکام نے واضح کیا ہے کہ ریاست فتنۃ الہندوستان کے دہشتگردوں کے خلاف مسلسل کارروائیاں جاری رکھے گی۔ شہریوں، محنت کشوں، ٹرانسپورٹرز، سپلائی چین اور قانونی تجارت کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

دیکھیے: بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کا بڑا آپریشن، 19 دہشتگرد ہلاک، اہم عسکری کمانڈر گرفتار

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *