اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق نیتن یاہو کو پیشگی انتباہ مل چکا تھا کہ حماس 7 اکتوبر کو بڑا حملہ کرنے والی ہے۔ یہ وارننگ متحدہ عرب امارات کی قیادت نے باقاعدہ طور پر دی تھی۔ اس انتباہ کے باوجود کوئی حفاظتی قدم نہیں اٹھایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو کو یہ اطلاعات حملے سے 10 دن قبل مل گئی تھیں۔ اماراتی صدر محمد بن زاید اور مصری انٹیلی جنس چیف نے خود آگاہ کیا تھا۔ اس کے باوجود نیتن یاہو نے ملکی سکیورٹی اداروں کو اعتماد میں نہیں لیا۔
دفاعی غفلت یا سیاسی مفاد؟
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نے یہ انتباہ جان بوجھ کر نظرانداز کیا۔ انہوں نے نہ تو دفاعی تیاریوں کا جائزہ لیا اور نہ ہی سرحد پر حفاظتی انتظامات سخت کیے۔ اس غفلت نے کئی سنگین سوالات کو جنم دیا ہے۔
نیز نیتن یاہو اپنے سیاسی مفادات کے لیے اس کشیدگی کے خواہاں تھے۔ وہ یحییٰ السنوار کے عسکری ارادوں سے پوری طرح باخبر تھے۔ قیدیوں کے تبادلے پر بات چیت میں تاخیر کر کے حالات کو بگاڑا گیا۔
خطے میں عدم استحکام
رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو اپنی حکومت بچانے اور عدالتی مقدمات سے بچنے کے لیے جنگ کو طول دینا چاہتے تھے۔ ایک شخص کے سیاسی فیصلے نے خطے کے لاکھوں افراد کو شدید مصیبت میں دھکیل دیا۔
اس حملے کے بعد جنگ غزہ سے نکل کر لبنان، شام، یمن اور ایران تک پھیل گئی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کی اس حکمت عملی نے پورے مشرقِ وسطیٰ کے امن کو مستقل خطرے میں ڈال دیا ہے۔