ملک میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کا مطالبہ پھر سامنے آیا ہے۔ شہری وسائل کی منصفانہ تقسیم چاہتے ہیں۔ عوامی حلقوں کے مطابق چھوٹے انتظامی یونٹس سے مسائل فوری حل ہو سکتے ہیں۔
ہزارہ ڈویژن کے شہریوں نے الگ صوبے کے قیام کا مطالبہ تیز کر دیا ہے۔ مقامی افراد کے مطابق ہر خطے کو اپنے قدرتی وسائل پر حق ملنا چاہیے۔ یہ مطالبہ خالصتاً انتظامی بہتری کے لیے کیا جا رہا ہے۔
شہریوں نے بتایا کہ دفتری امور کے لیے پشاور جانا پڑتا ہے۔ طویل سفر کے باعث وقت اور رقوم کا ضیاع ہوتا ہے۔ مقامی سطح پر اختیارات منتقل ہونے سے عوام کو سہولیات گھر کی دہلیز پر میسر آئیں گی۔
ماہرین کا مؤقف ہے کہ گنجان آبادی والے علاقوں میں نئے یونٹس بننے چاہئیں۔ اس اقدام سے طرزِ حکمرانی میں بہتری آئے گی۔ آئینی اور سیاسی سطح پر اس معاملے پر آئندہ دنوں میں اہم پیش رفت متوقع ہے۔
دیکھیے: نئے صوبوں کی تحریک زور پکڑ گئی، پاکستان کسان اتحاد کے صدر بھی میدان میں آگئے