پاکستان کی افغانستان کے ساتھ پالیسی تضاد کا شکار ہے۔ ان کے مطابق پاکستان مسلسل مذاکرات، بارڈر مینجمنٹ اور دہشتگردی کے خاتمے کیلئے عملی اقدامات پر زور دیتا رہا ہے۔
افغانستان میں طالبان کے اقتدار کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید مضبوط ہوں گے اور سرحد پار دہشتگردی میں کمی آئے گی، مگر صورتحال اس کے برعکس نکلی۔
افغان ترجمان کی جانب سے پیش کیا گیا سویلین ہلاکتوں کا بیانیہ دراصل ان کارروائیوں کو متنازع بنانے اور عالمی ہمدردی حاصل کرنے کی ایک کوشش ہے، جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں
افغان شہریوں میں مثبت جذبات کی سطح سب سے کم جبکہ منفی جذبات کی سطح بلند ترین رہی۔ خاص طور پر افغان خواتین کی زندگی سے اطمینان کی اوسط شرح صرف 1.26 رہی، جو عالمی سطح پر سب سے کم ہے۔
افغانستان، ترکمانستان اور تاتارستان کے درمیان سہ فریقی ٹرانزٹ کوریڈور معاہدے پر آئندہ دو ماہ میں دستخط متوقع ہیں، جسے قازان فورم کے دوران حتمی شکل دی جائے گی۔
شہباز گل کی جانب سے یہ مؤقف پیش کیا گیا کہ ایران نے پاکستان میں مذاکرات سے انکار کیا کیونکہ یہ ایک مبینہ “جال” تھا، تاہم ماہرین کے مطابق یہ دعویٰ ایک معروف دانشور ولی نصر سے غلط طور پر منسوب کیا گیا۔
پاکستان 2014 سے اس اسکیم کا حصہ ہے اور اس کے تحت درکار تمام 27 بین الاقوامی کنونشنز کی توثیق کر چکا ہے، جن میں انسانی حقوق، لیبر، ماحولیات اور گورننس سے متعلق قوانین شامل ہیں۔
امریکی حکام نے تاحال حملہ آوروں کی شناخت یا واقعے کے محرکات سے متعلق کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔