ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تنازعہ گزشتہ دو ہفتوں سے جاری ہے، جب قندھار سے آئے طالبان کمانڈروں نے طاقت کے زور پر مقامی لوگوں سے سونے کی کانیں چھین کر اپنے حامیوں کے حوالے کیں۔ بعد ازاں انہی کانوں پر چینی ماہرین کی مدد سے کام شروع کرایا گیا، جس پر مقامی آبادی میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ انہیں نہ صرف بے دخل کیا گیا بلکہ کسی قسم کا معاوضہ بھی نہیں دیا گیا۔دو روز قبل بھی اسی علاقے میں مقامی لوگوں اور قندھاری گروپ کے درمیان شدید تصادم ہوا تھا، جس میں چھ افراد مارے گئے۔