پاکستانی عہدیدار نے ان الزامات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کا ریکارڈ واضح ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “پاکستان نے دہشت گردی کے تمام مظاہر کا مقابلہ کیا ہے، جبکہ طالبان خود دہشت گرد گروہوں کو پناہ دیتے رہے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین پر داعش کے ٹھکانوں کو نظر انداز کر رہا ہے، جہاں سے افغانستان اور دیگر ممالک میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔
زلمے خلیل زاد نے دوحہ معاہدے کے ذریعے افغانستان کو طالبان کے حوالے کیا۔ یہ وہ معاہدہ تھا جس نے نہ صرف افغان حکومت کو کمزور کیا بلکہ ملک کو خانہ جنگی کی طرف دھکیل دیا۔
طالبان وفد نے نئی دہلی میں منعقدہ پریس کانفرنس میں خواتین صحافیوں کو داخل ہونے سے روک دیا، جو نہ صرف بھارتی آئین کی روح کے منافی تھا بلکہ مودی حکومت کے لیے شدید سبکی کا باعث بھی بنا۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کا مؤقف آج بھی مسلم دنیا میں سب سے زیادہ اصولی ہے — یعنی 1967ء کی سرحدوں کے مطابق ایک خودمختار، قابلِ عمل فلسطینی ریاست کا قیام، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
وزارت نے بین الاقوامی برادری، علاقائی ممالک اور متعلقہ عالمی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ اس واقعے کو مانیٹر کریں اور اس کی شفاف تحقیقات کروائی جائیں تاکہ ذمہ داران کو قانون کے مطابق جوابدہ ٹھہرایا جا سکے۔
سعد رضوی نے کہا کہ ’’ہم جامع مسجد رحمت العالمین سے امریکی ایمبیسی اسلام آباد تک لانگ مارچ کریں گے۔ سب سے آگے میں خود چلوں گا، پھر میری شوریٰ اور پھر میرے کارکن۔‘‘