تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ اس پروپیگنڈے کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اسے مخصوص مذموم مقاصد کے تحت ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ عوام اور اداروں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کی جا سکیں

April 21, 2026

ان گرفتاریوں کا مقصد چین کو یہ یقین دہانی کروانا ہے کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ گرفتار کیے گئے جنگجوؤں کو اس بار کابل کی پل چرخی جیل منتقل کرنے کے بجائے افغان انٹیلی جنس ادارے ’جی ڈی آئی‘ کے زیر انتظام خصوصی عمارتوں میں منتقل کیا گیا ہے

April 21, 2026

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ 1998 کے بعد آج ایک بار پھر پاکستان کا نام سفارتی سطح پر بلند ہو رہا ہے اور ملک کی بہتری کے لیے عمدہ کردار ادا کیا جا رہا ہے۔

April 21, 2026

صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ گزشتہ روز امریکی افواج نے ایران کا ایک بحری جہاز قبضے میں لیا ہے جو ان کے بقول چین کی جانب سے بھیجے گئے سامان سے لدا ہوا تھا۔ اس واقعے کو چینی صدر شی جن پنگ سے جوڑتے ہوئے انہوں نے تند و تیز لہجے میں کہا کہ “جنگ اسی طرح ہوتی ہے” اور اب امریکا ایران میں داخل ہونے کے لیے تیار ہے۔

April 21, 2026

چینی سفیر جیانگ زیڈونگ کی نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار سے ملاقات؛ چین نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی کوششوں پر پاکستان کے کلیدی کردار کی بھرپور حمایت کر دی۔

April 21, 2026

اسلام آباد میں منعقد ہونے والا پہلا پاک یورپی تجارتی اشتراک ملک کی معاشی سمت پر عالمی اعتماد کا مظہر ہے، جس سے دوطرفہ تجارت اور طویل المدتی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔

April 21, 2026

غزہ امن معاہدے کی کامیابی کے باوجود ٹی ایل پی کا احتجاج جاری؛ جڑواں شہروں میں معمولات زندگی معطل

سعد رضوی نے کہا کہ ’’ہم جامع مسجد رحمت العالمین سے امریکی ایمبیسی اسلام آباد تک لانگ مارچ کریں گے۔ سب سے آگے میں خود چلوں گا، پھر میری شوریٰ اور پھر میرے کارکن۔‘‘
غزہ امن معاہدے کی کامیابی کے باوجود ٹی ایل پی کا احتجاج جاری؛ جڑواں شہروں میں معمولات زندگی معطل

سیاسی مبصرین کے مطابق، یہ مارچ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب فلسطین کی تنظیم حماس نے امریکی ثالثی میں امن منصوبہ قبول کر لیا ہے۔ اس تناظر میں ٹی ایل پی کا احتجاج محض سیاسی مقاصد کے لیے قرار دیا جا رہا ہے، جس سے ملک میں انتشار بڑھنے کا خدشہ ہے۔

October 10, 2025

تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے جمعہ کے روز لاہور سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے۔ سربراہ ٹی ایل پی علامہ حافظ سعد حسین رضوی نے جامع مسجد رحمۃاللعٰلمین میں جمعے کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مارچ کا مقصد ’’بیت المقدس کے حق میں‘‘ آواز اٹھانا ہے۔

سعد رضوی نے کہا کہ ’’ہم جامع مسجد رحمت العالمین سے امریکی ایمبیسی اسلام آباد تک لانگ مارچ کریں گے۔ سب سے آگے میں خود چلوں گا، پھر میری شوریٰ اور پھر میرے کارکن۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’گرفتاری کوئی مسئلہ نہیں، گولی اور شیل کوئی مسئلہ نہیں، شہادت ہمارا مقدر ہے۔‘‘

ٹی ایل پی سربراہ نے اپنے خطاب میں حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’تمہارے لیے سفارتخانے مقدس ہیں، ہمارے لیے بیت المقدس افضل ہے۔ ہم نے کوئی پہل نہیں کی، مگر ناموسِ رسالت اور بیت المقدس کے لیے پہل ہمارا حق ہے۔‘‘

انہوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ ’’فلسطین کے حق میں بات کرنے نہیں دے رہی‘‘ اور مطالبہ کیا کہ ’’پاکستان کو اسرائیل کے خلاف ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے بنائے میزائلوں سے جواب دینا چاہیے تھا۔‘‘

دوسری جانب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ غزہ کے حق میں ٹی ایل پی کی احتجاجی کال پر انتظامیہ نے ریڈ زون اور فیض آباد انٹرچینج کو مکمل طور پر سیل کر دیا۔ پولیس اور ایف سی کی بھاری نفری تعینات ہے، جبکہ تمام داخلی راستوں پر کنٹینرز رکھے گئے ہیں۔ اسلام آباد اور راولپنڈی میں انٹرنیٹ سروس معطل ہے۔

اسلام آباد ٹریفک پولیس کے مطابق شہریوں کو پارک روڈ، ایکسپریس وے، کھنہ اور لہتراڑ روڈ کے راستے استعمال کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ شہر میں ہیوی ٹریفک کے داخلے پر اگلے حکم تک پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

ٹریفک کی بندش کے باعث دفاتر، عدالتوں اور اسکولوں میں حاضری معمول سے کم رہی۔ میٹرو بس سروس بند ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ٹیکسی اور موٹرسائیکل سروس فراہم کرنے والوں نے من مانے کرائے وصول کیے۔

طبی امداد کے متلاشی مریضوں کو بھی اسپتال پہنچنے میں دشواری کا سامنا رہا۔ عدالتوں میں وکلا اور سائلین کی غیر حاضری کے باعث متعدد مقدمات ملتوی کیے گئے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق، یہ مارچ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب فلسطین کی تنظیم حماس نے امریکی ثالثی میں امن منصوبہ قبول کر لیا ہے۔ اس تناظر میں ٹی ایل پی کا احتجاج محض سیاسی مقاصد کے لیے قرار دیا جا رہا ہے، جس سے ملک میں انتشار بڑھنے کا خدشہ ہے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق، لانگ مارچ کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں فوری کارروائی کے لیے پولیس اور رینجرز کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔

دیکھیں: حماس کا غزہ امن معاہدے پر مثبت ردعمل؛ پاکستان کا خیر مقدم

متعلقہ مضامین

تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ اس پروپیگنڈے کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اسے مخصوص مذموم مقاصد کے تحت ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ عوام اور اداروں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کی جا سکیں

April 21, 2026

ان گرفتاریوں کا مقصد چین کو یہ یقین دہانی کروانا ہے کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ گرفتار کیے گئے جنگجوؤں کو اس بار کابل کی پل چرخی جیل منتقل کرنے کے بجائے افغان انٹیلی جنس ادارے ’جی ڈی آئی‘ کے زیر انتظام خصوصی عمارتوں میں منتقل کیا گیا ہے

April 21, 2026

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ 1998 کے بعد آج ایک بار پھر پاکستان کا نام سفارتی سطح پر بلند ہو رہا ہے اور ملک کی بہتری کے لیے عمدہ کردار ادا کیا جا رہا ہے۔

April 21, 2026

صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ گزشتہ روز امریکی افواج نے ایران کا ایک بحری جہاز قبضے میں لیا ہے جو ان کے بقول چین کی جانب سے بھیجے گئے سامان سے لدا ہوا تھا۔ اس واقعے کو چینی صدر شی جن پنگ سے جوڑتے ہوئے انہوں نے تند و تیز لہجے میں کہا کہ “جنگ اسی طرح ہوتی ہے” اور اب امریکا ایران میں داخل ہونے کے لیے تیار ہے۔

April 21, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *