یہ بیانیہ سیاسی فائدے کے لیے عوامی تحفظ کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب ریاست کی شدت پسندی کے خلاف عزم پر سوال اٹھتے ہیں تو سب سے زیادہ نقصان عوام کو ہوتا ہے۔
سیکورٹی ذرائع کے مطابق آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حالیہ امریکی دورے نے پاکستان کے موقف کو تقویت دی اور بھارت کے ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کے کردار کو اجاگر کیا۔
چھ ستمبر کو آئی ایس پی آر نے بتایا تھا کہ مہمند میں سرحد پار سے داخلے کی کوشش کرنے والے 14 دہشت گرد مارے گئے، جبکہ بنوں ایف سی لائنز حملے میں شامل پانچ خودکش بمباروں میں سے تین افغان شہری تھے۔
وزیر اعظم نے واضح کیا کہ افغانستان کو یہ پیغام دے دیا گیا ہے کہ وہ پاکستان اور خارجی عناصر میں سے ایک کا انتخاب کرے۔ ان کے مطابق غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندے کئی واقعات میں ملوث پائے گئے ہیں، اس لیے ان کا انخلا ناگزیر ہے۔
پاکستان کے پاس ایک موقع ہے کہ وہ بی ایل اے کی نامزدگی کو استعمال کرتے ہوئے عالمی تعاون حاصل کرے۔ تاہم کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ داخلی سطح پر متحد پالیسی اپنائی جائے اور عالمی برادری کو باور کرایا جائے کہ سرحد پار دہشت گردی نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے۔
اسرائیلی مین اسٹریم کالم نگار، بشمول وہ حلقے جو نیتن یاہو کے مؤقف کے نزدیک سمجھے جاتے ہیں، نے اپنی تجزیاتی تحریروں میں ترکی کو بطور ’جغرافیائی و سیاسی خطرہ‘ نمایاں کیا ہے۔