مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی کا ہنگامی اجلاس ریاض میں منعقد ہو رہا ہے، جس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار شرکت کریں گے۔

October 5, 2026

خودمختاری کے نعروں کے برعکس بیرونی طاقتوں سے مبینہ رابطوں اور ریلیف کی توقع پر سیاسی حلقوں نے پی ٹی آئی کے متضاد مؤقف اور دوہرے معیار پر کڑے سوالات اٹھا دیے۔

October 5, 2026

صوبہ خیبرپختونخوا میں بدستور سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔ دیرپا امن کے لیے سکیورٹی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ صوبائی سیاسی اونرشپ اور اداروں کی مضبوطی ناگزیر ہے۔

October 5, 2026

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے دعویٰ کیا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے رات گئے مذاکرات کے حتمی مرحلے میں طے شدہ تمام نکات اور تحریری وعدوں پر عمل سے انکار کر دیا ہے۔

October 4, 2026

کالعدم بی ایل اے کے سربراہ بشیر زیب پروسٹیٹ کینسر کے علاج کے لیے بھارت جانے کی تیاری کر رہے ہیں، تنظیمی کمان عدنان بلوچ کو سونپ دی گئی۔

October 4, 2026

پی ٹی آئی اور حکومت کے مذاکرات کی ناکامی نے سیاسی کشیدگی اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی پر نئے سوالات اٹھا دیے۔

October 4, 2026

کابل میں امریکی وفد کی افغان اعلیٰ قیادت سے ملاقات، دو طرفہ تعلقات کے فروغ پر اتفاق

زلمے خلیل زاد سمیت دیگر نے افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی اور ملا عب الغنی برادر اخوند سے ملاقات کی۔
کابل میں امریکی وفد کی افغان اعلیٰ قیادت سے ملاقات، دو طرفہ تعلقات کے فروغ پر اتفاق

یہ طالبان کے برسراقتدار آنے کے بعد امریکی وفد کا کابل کا دوسرا اعلان شدہ دورہ ہے۔ پانچ ماہ قبل ہونے والی پہلی ملاقات میں بھی زلمے خلیل زاد شامل تھے، جس کے بعد طالبان نے امریکی انجینئر جارج گلازمان کو رہا کیا تھا۔

September 14, 2025

کابل میں یرغمالیوں کے امور پر امریکی صدر کے خصوصی ایلچی ایڈم بوهلر کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی امریکی وفد نے طالبان قیادت سے ملاقات کی۔ وفد نے افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی اور نائب وزیراعظم برائے اقتصادی امور ملا عبدالغنی برادر اخوند سے علیحدہ ملاقاتیں کیں۔

اس ملاقات میں سابق امریکی ایلچی زلمے خلیل زاد بھی شامل تھے۔ مذاکرات کا مرکز دونوں ممالک کے زیرِ حراست قیدیوں کا معاملہ اور وسیع تر دوطرفہ تعلقات و اقتصادی تعاون رہا۔

طالبان وزارتِ خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ متقی کے ساتھ ملاقات میں قیدیوں کا مسئلہ تفصیل سے زیرِ بحث آیا اور طالبان نے اسے تعلقات کو معمول پر لانے کا موقع قرار دیا۔ متقی نے کہا کہ “یہ دونوں ممالک کے تعلقات میں پیچیدہ مسائل حل کرنے کے لیے ایک موزوں موقع ہے۔”

ایڈم بوهلر نے اپنی گفتگو میں زور دیا کہ ماضی میں کابل میں ہونے والی ملاقاتوں پر آگے بڑھتے ہوئے عملی نتائج حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن ریاستوں کی آزادی کا احترام کرتا ہے اور افغانوں پر اپنی رائے مسلط نہیں کرنا چاہتا۔

اقتصادی تعاون پر بات چیت

وفد نے طالبان کے نائب وزیراعظم ملا برادر سے ملاقات میں اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری کے امکانات پر بھی گفتگو کی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ سلامتی اور انسانی بحران بڑے مسائل ہیں، تاہم مستقبل میں اقتصادی روابط کے امکانات موجود ہیں۔

وفد کے پروفائل

زلمے خلیل زاد کا شمار تجربہ کار افغان نژاد امریکی سفارتکاروں میں ہوتا ہے۔ وہ افغانستان، عراق اور اقوام متحدہ میں امریکی سفیر رہ چکے ہیں اور ٹرمپ دور میں افغانستان کے لیے خصوصی نمائندہ بھی رہے۔ ان کی قیادت میں 2020 کا دوحہ معاہدہ طے پایا جس کے نتیجے میں امریکی افواج کے انخلا کی راہ ہموار ہوئی۔ تاہم ناقدین کے مطابق اس پالیسی نے افغان حکومت کے تیز زوال کی راہ بھی ہموار کی۔

ایڈم بوهلر سابق چیف ایگزیکٹو، یو ایس انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ فنانس کارپوریشنرہ چکے ہیں اور ٹرمپ انتظامیہ میں اہم اقتصادی عہدے پر فائز تھے۔ ان کی موجودگی اس امکان کی عکاسی کرتی ہے کہ امریکہ مشروط اقتصادی امداد یا سرمایہ کاری کے راستے تلاش کر سکتا ہے۔

بیک ڈور سفارت کاری کی تاریخ

یہ طالبان کے برسراقتدار آنے کے بعد امریکی وفد کا کابل کا دوسرا اعلان شدہ دورہ ہے۔ پانچ ماہ قبل ہونے والی پہلی ملاقات میں بھی زلمے خلیل زاد شامل تھے، جس کے بعد طالبان نے امریکی انجینئر جارج گلازمان کو رہا کیا تھا۔

دیکھیں: نائن الیون سانحے کے 24 برس مکمل؛ امریکہ میں مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے

متعلقہ مضامین

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی کا ہنگامی اجلاس ریاض میں منعقد ہو رہا ہے، جس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار شرکت کریں گے۔

October 5, 2026

خودمختاری کے نعروں کے برعکس بیرونی طاقتوں سے مبینہ رابطوں اور ریلیف کی توقع پر سیاسی حلقوں نے پی ٹی آئی کے متضاد مؤقف اور دوہرے معیار پر کڑے سوالات اٹھا دیے۔

October 5, 2026

صوبہ خیبرپختونخوا میں بدستور سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔ دیرپا امن کے لیے سکیورٹی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ صوبائی سیاسی اونرشپ اور اداروں کی مضبوطی ناگزیر ہے۔

October 5, 2026

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے دعویٰ کیا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے رات گئے مذاکرات کے حتمی مرحلے میں طے شدہ تمام نکات اور تحریری وعدوں پر عمل سے انکار کر دیا ہے۔

October 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *