"> بیانیے کی جنگ: عمران خان اور دہشت گردی کے خلاف ریاستی عزم - HTN Urdu

بیانیے کی جنگ: عمران خان اور دہشت گردی کے خلاف ریاستی عزم

یہ بیانیہ سیاسی فائدے کے لیے عوامی تحفظ کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب ریاست کی شدت پسندی کے خلاف عزم پر سوال اٹھتے ہیں تو سب سے زیادہ نقصان عوام کو ہوتا ہے۔
بیانیے کی جنگ: عمران خان اور دہشت گردی کے خلاف ریاستی عزم

خان نے افغان مہاجرین کی واپسی کو غیر انسانی قرار دیا۔ لیکن دہشت گردی میں ان کی شمولیت کے شواہد یہ بتاتے ہیں کہ معاملہ صرف سیاسی یا انسانی ہمدردی کا نہیں بلکہ قومی سلامتی کا بھی ہے۔

September 14, 2025

عمران خان کا خیبر پختونخوا میں فوجی آپریشن کے خلاف بیانیہ پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کو کمزور کرنے والا خطرناک بیانیہ ہے۔

عمران خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر بیان جاری کرتے ہوئے واضح کیا کہ ’’کسی صورت بھی مزید فوجی آپریشن کی اجازت نہ دی جائے۔‘‘ یہ مؤقف بظاہر انسانی ہمدردی اور امن کی اپیل معلوم ہوتا ہے، لیکن اس کا تنقیدی جائزہ لینا ضروری ہے کیونکہ ملک دوبارہ بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے خطرے سے دوچار ہے۔

سیاست کے تناظر میں قومی سلامتی کا مسئلہ

خان کا بیانیہ سیاسی احتجاج، تاریخی شکوے اور عوامی ہمدردی پر مبنی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ فوجی آپریشن مسئلے کا حل نہیں بلکہ مزید دہشت گردی اور نفرت کو جنم دیتے ہیں۔ ساتھ ہی وہ الزام لگاتے ہیں کہ آپریشن کا مقصد تحریک انصاف کو کمزور کرنا ہے، جیسا کہ ماضی میں اے این پی کے ساتھ ہوا۔

یہ فریم سیاسی طور پر مؤثر ہے لیکن یہ ریاستی اداروں پر شکوک پیدا کرکے شدت پسندی کے حقیقی خطرے کو نظر انداز کرتا ہے۔

زمینی حقائق

حقیقت یہ ہے کہ انسدادِ دہشت گردی آپریشن کسی سیاسی کھیل کا حصہ نہیں بلکہ ایک بڑھتے ہوئے خطرے کا جواب ہیں۔ خفیہ رپورٹس کے مطابق افغانستان سے 8,000 سے زائد خودکش بمبار خیبر پختونخوا منتقل ہوئے ہیں۔ حالیہ بنوں ایف سی لائنز حملے میں افغان شہری بھی شامل تھے، جو سرحد پار مداخلت کا ثبوت ہے۔ ایسے میں فوجی کارروائی کی مخالفت عوام کے تحفظ کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔

مذاکرات کی کمزور دلیل

خان کا مطالبہ ہے کہ افغان طالبان سے بات چیت کی جائے، لیکن ماضی نے ثابت کیا کہ شدت پسند ایسے مواقع کو دوبارہ منظم ہونے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ جب افغان طالبان کے اعلیٰ اہلکار کھلے عام پاکستان کے خلاف جہاد کی کال دیں، تو محض مذاکرات کافی نہیں رہتے۔

افغان مہاجرین کا مسئلہ

خان نے افغان مہاجرین کی واپسی کو غیر انسانی قرار دیا۔ لیکن دہشت گردی میں ان کی شمولیت کے شواہد یہ بتاتے ہیں کہ معاملہ صرف سیاسی یا انسانی ہمدردی کا نہیں بلکہ قومی سلامتی کا بھی ہے۔

ایک خطرناک بیانیہ

خان کی ہدایت کہ کے پی حکومت وفاقی فیصلوں کی مزاحمت کرے، نہ صرف ادارہ جاتی بحران پیدا کرتی ہے بلکہ دہشت گردوں کو فائدہ دیتی ہے۔ یہ رویہ عوامی سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے اور ملک کے سب سے بڑے چیلنج کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔

یہ بیانیہ سیاسی فائدے کے لیے عوامی تحفظ کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب ریاست کی شدت پسندی کے خلاف عزم پر سوال اٹھتے ہیں تو سب سے زیادہ نقصان عوام کو ہوتا ہے۔

دیکھیں: علیمہ خان کو اڈیالہ جیل کے باہر انڈا مار دیا گیا، دونوں ملزمان خواتین کا تعلق پی ٹی آئی سے نکلا

متعلقہ مضامین

چاغی کے علاقے دالبندین میں سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں 2 مطلوب دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔

October 17, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کو یمن کے حوثیوں کے خلاف کارروائیوں میں اسرائیلی مدد قبول کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

October 17, 2026

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *