کابل میں حالیہ دھماکے کے بعد چین نے طالبان حکومت سے فوری اور ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ چینی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ افغانستان میں موجود چینی شہریوں، اداروں اور سرمایہ کاری کے تحفظ کو طالبان حکومت کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری سمجھا جاتا ہے

January 20, 2026

پاکستان اور یورپی یونین مضبوط سفارتی اور اقتصادی تعلقات کے 60 سال سے زائد عرصے کا جشن مناتے ہوئے پہلا اعلیٰ سطحی یورپی یونین۔ پاکستان بزنس فورم 28 اور 29 اپریل کو اسلام آباد میں منعقد کریں گے

January 20, 2026

سابق افغان انٹیلی جنس چیف رحمت اللہ نبیل نے دعویٰ کیا ہے کہ کابل دھماکے کی منصوبہ بندی پاکستان میں کی گئی تھی اور پاکستان میں داعش خراسان کا آپریشنل سینٹر موجود ہے، جسے پاکستانی اداروں کی حمایت حاصل ہے

January 20, 2026

امریکہ کے بعد یورپی ملک پولینڈ نے بھی بھارت۔ روس کے دفاعی تعلقات پر تشویش ظاہر کی ہے۔ پولینڈ کے وزیر خارجہ رادوسلاو سِکورسکی نے نئی دہلی میں کہا کہ انہیں بھی بھارت کی روس کے ساتھ فوجی مشقوں پر تحفظات ہیں

January 20, 2026

رپورٹ کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے غزہ سے ایران تک بحرانوں میں ثالثی، جنگ بندی اور خطے میں سیاسی توازن قائم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا، جسے عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا

January 20, 2026

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان بھی حالیہ برسوں میں دفاعی، سفارتی اور معاشی تعاون میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ تینوں ممالک مشترکہ عسکری مشقوں، دفاعی پیداوار، انٹیلی جنس تعاون اور سفارتی ہم آہنگی کے ذریعے ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں۔ ترکی کے ساتھ دفاعی صنعت میں اشتراک اور سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون بن چکی ہے۔

January 20, 2026

جنرل اسمبلی 2025 اجلاس: سرحد پار دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی سفارتی کوششیں

پاکستان کے پاس ایک موقع ہے کہ وہ بی ایل اے کی نامزدگی کو استعمال کرتے ہوئے عالمی تعاون حاصل کرے۔ تاہم کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ داخلی سطح پر متحد پالیسی اپنائی جائے اور عالمی برادری کو باور کرایا جائے کہ سرحد پار دہشت گردی نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے۔
جنرل اسمبلی 2025 اجلاس: سرحد پار دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی سفارتی کوششیں

وفاقی حکومت دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی پر زور دیتی ہے مگر خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کا الگ مؤقف سامنے آیا ہے۔

September 13, 2025

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے دوران پاکستان نے ایک بار پھر سرحد پار دہشت گردی کے مسئلے کو اجاگر کیا ہے۔ دہائیوں سے پاکستان دہشت گرد گروہوں کے خطرے سے دوچار رہا ہے جو زیادہ تر افغانستان سے سرگرم ہیں۔ اگرچہ یہ ہمیشہ پاکستان کی سلامتی پالیسی کا حصہ رہا ہے، مگر حالیہ سفارتی پیش رفت اور داخلی سیاسی پیچیدگیوں نے اسے ایک نیا رخ دیا ہے۔

بی ایل اے کی نامزدگی

امریکہ کی جانب سے بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو حال ہی میں دہشت گرد تنظیم قرار دیا جانا پاکستان کے لیے ایک اہم کامیابی ہے۔ یہ گروہ سی پیک منصوبوں اور چینی شہریوں پر حملوں سمیت کئی خونریز کارروائیوں میں ملوث رہا ہے۔ امریکی فیصلہ پاکستان کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ عالمی سطح پر بی ایل اے کو ایک بین الاقوامی خطرہ قرار دے کر زیادہ انٹیلی جنس تعاون اور مالیاتی نگرانی کے اقدامات کے لیے حمایت حاصل کرے۔

بڑا خطرہ: ٹی ٹی پی اور دراندازی

بلوچستان کے علاوہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) بھی ایک سنگین خطرہ بنی ہوئی ہے۔ حکام کے مطابق افغانستان سے آٹھ ہزار سے زائد عسکریت پسند دراندازی کر چکے ہیں جو سیکیورٹی فورسز، شہریوں پر حملوں اور غیر قانونی ناکوں میں ملوث ہیں۔ یہ دراندازی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ صرف فوجی کارروائی نہیں بلکہ جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

سیاسی تضادات

وفاقی حکومت دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی پر زور دیتی ہے مگر خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کا الگ مؤقف سامنے آیا ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا یہ کہنا کہ انہیں افغان حکام سے براہِ راست رابطے کی اجازت ہے، مرکز اور صوبے میں اختلاف کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ داخلی تقسیم پاکستان کے بین الاقوامی بیانیے کو کمزور کر سکتی ہے۔

بیرونی پشت پناہی

پاکستان مسلسل بھارت پر الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ عسکریت پسندوں اور علیحدگی پسند گروہوں کی پشت پناہی کرتا ہے۔ ان شواہد کو اقوام متحدہ میں اجاگر کرنا پاکستان کے لیے اہم ہے تاکہ یہ دکھایا جا سکے کہ بیرونی امداد کس طرح خطے کے استحکام کو متاثر کرتی ہے۔

نتیجہ

پاکستان کے پاس ایک موقع ہے کہ وہ بی ایل اے کی نامزدگی کو استعمال کرتے ہوئے عالمی تعاون حاصل کرے۔ تاہم کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ داخلی سطح پر متحد پالیسی اپنائی جائے اور عالمی برادری کو باور کرایا جائے کہ سرحد پار دہشت گردی نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے۔

دیکھیں: سیکیورٹی اداروں کا مشترکہ آپریشن؛ ٹی ٹی پی کے تین دہشت گرد ہلاک

متعلقہ مضامین

کابل میں حالیہ دھماکے کے بعد چین نے طالبان حکومت سے فوری اور ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ چینی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ افغانستان میں موجود چینی شہریوں، اداروں اور سرمایہ کاری کے تحفظ کو طالبان حکومت کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری سمجھا جاتا ہے

January 20, 2026

پاکستان اور یورپی یونین مضبوط سفارتی اور اقتصادی تعلقات کے 60 سال سے زائد عرصے کا جشن مناتے ہوئے پہلا اعلیٰ سطحی یورپی یونین۔ پاکستان بزنس فورم 28 اور 29 اپریل کو اسلام آباد میں منعقد کریں گے

January 20, 2026

سابق افغان انٹیلی جنس چیف رحمت اللہ نبیل نے دعویٰ کیا ہے کہ کابل دھماکے کی منصوبہ بندی پاکستان میں کی گئی تھی اور پاکستان میں داعش خراسان کا آپریشنل سینٹر موجود ہے، جسے پاکستانی اداروں کی حمایت حاصل ہے

January 20, 2026

امریکہ کے بعد یورپی ملک پولینڈ نے بھی بھارت۔ روس کے دفاعی تعلقات پر تشویش ظاہر کی ہے۔ پولینڈ کے وزیر خارجہ رادوسلاو سِکورسکی نے نئی دہلی میں کہا کہ انہیں بھی بھارت کی روس کے ساتھ فوجی مشقوں پر تحفظات ہیں

January 20, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *