امریکا نے اس حوالے سے باضابطہ یقین دہانی کروائی ہے کہ اسرائیل لبنان کی حدود میں مزید عسکری کارروائیاں نہیں کرے گا، جسے خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

April 11, 2026

امجد طہٰ نے اسلام آباد امن مذاکرات کو ناکام بنانے کے لیے صیہونی ایجنڈے کا سہارا لے لیا۔ نیتن یاہو کے قریبی ساتھی سمجھے جانے والے تجزیہ نگار کا پاکستان اور ترکیہ کی ثالثی کے خلاف بیان دراصل خطے کو جنگ میں دھکیلنے کی سازش ہے

April 11, 2026

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کا نیا باب؛ پاک فضائیہ کے لڑاکا طیارے اسٹریٹجک معاہدے کے تحت کنگ عبدالعزیز ایئر بیس پہنچ گئے۔ اس اقدام کا مقصد علاقائی امن اور دونوں افواج کی آپریشنل صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے

April 11, 2026

وزیراعظم شہباز شریف اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے درمیان اسلام آباد میں ملاقات؛ دونوں رہنماؤں نے خطے میں پائیدار امن کے لیے مذاکرات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے تعمیری انداز میں آگے بڑھنے کے عزم کا اظہار کیا

April 11, 2026

امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات نازک مرحلے میں داخل۔ اسرائیل کو مذاکرات سبوتاژ کرنے والا بڑا فریق قرار دیتے ہوئے ماہرین نے واشنگٹن اور تہران کو لچک دکھانے اور دشمنوں کی سازشوں سے ہوشیار رہنے کا مشورہ دیا ہے

April 11, 2026

ہرات میں مزار کے قریب فائرنگ کے نتیجے میں 10 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ حملہ طالبان دورِ حکومت میں آئی ایس کے پی کی بڑھتی ہوئی آپریشنل آزادی اور افغانستان کے دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بننے کی واضح نشاندہی کرتا ہے

April 11, 2026

زلمے خلیل زاد کی وفد کے ہمراہ کابل آمد، افغان وزیر خارجہ سے ملاقات کی

ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے فروغ، شہریوں کے مسائل، سرمایہ کاری کے مواقع اور قیدیوں کے معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔
زلمے خلیل زاد کی وفد کے ہمراہ کابل آمد، افغان وزیر خارجہ سے ملاقات کی

یہ ملاقات مستقبل میں افغانستان اور امریکہ کے تعلقات کی سمت کا تعین کرنے میں اہم ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم اس دوران پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کہ کہیں یہ پیش رفت کسی نئے دباؤ یا حکمتِ عملی کا حصہ نہ ہو۔

September 13, 2025

کابل میں آج افغانستان کے وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی نمائندے ایڈم بولر کی قیادت میں وفد سے ملاقات کی۔ وفد میں افغانستان کے لیے امریکہ کے سابق خصوصی نمائندہ ڈاکٹر زلمے خلیل زاد بھی شامل تھے، جو ماضی میں دوحہ مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کر چکے ہیں۔

اس کے علاوہ وفد کی ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کے مقررکردہ انتہائی قریبی ساتھی سے بھی ملاقات ہوئی۔

ملاقات کا ایجنڈا

ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے فروغ، شہریوں کے مسائل، سرمایہ کاری کے مواقع اور قیدیوں کے معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ وزیر خارجہ نے دوحہ مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اب یہ بہترین وقت ہے کہ تعلقات معمول پر آئیں اور ایسے پیچیدہ مسائل باقی نہیں رہے جو حل نہ ہو سکیں۔

امریکی مؤقف

ایڈم بولر نے سب سے پہلے مشرقی افغانستان میں حالیہ زلزلے پر تعزیت کی اور افغان عوام کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ملک اقوام کی انتخابی آزادی کا احترام کرتا ہے اور افغان عوام پر کچھ مسلط نہیں کرنا چاہتا۔ ان کے مطابق کابل کا سابقہ دورہ سودمند رہا تھا، اور ضروری ہے کہ دونوں ممالک اپنی کوششیں جاری رکھیں تاکہ مثبت نتائج سامنے آئیں۔

زلمے خلیل زاد کی موجودگی اور خدشات

ملاقات میں زلمی خلیلزاد کی موجودگی نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ خلیلزاد کو خطے میں پاکستان مخالف بیانیہ اختیار کرنے کے حوالے سے جانا جاتا ہے، جبکہ بعض تجزیہ کاروں کے نزدیک ان کی واپسی ایک نئی امریکی حکمتِ عملی کا اشارہ ہو سکتی ہے۔

پوشیدہ ایجنڈے اور خطے پر اثرات

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایڈم بولر اور زلمے خلیل زاد جیسے شخصیات کا کابل آنا محض تعلقات کی بحالی کا معاملہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے بڑے جغرافیائی اور سیاسی مقاصد کارفرما ہو سکتے ہیں۔ ایڈم بولر کو بعض حلقے صیہونی لابی سے جڑا ہوا سمجھتے ہیں، جبکہ خلیل زاد کی تاریخ پاکستان کے حوالے سے تلخ رہی ہے۔ ایسے میں اس وفد کی آمد نے خطے میں شکوک و شبہات کو بڑھا دیا ہے۔

یہ ملاقات مستقبل میں افغانستان اور امریکہ کے تعلقات کی سمت کا تعین کرنے میں اہم ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم اس دوران پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کہ کہیں یہ پیش رفت کسی نئے دباؤ یا حکمتِ عملی کا حصہ نہ ہو۔

دیکھیں: افغانستان اب شکاگو سے بھی زیادہ محفوظ ملک بن چکا ہے؛ صدر ٹرمپ

متعلقہ مضامین

امریکا نے اس حوالے سے باضابطہ یقین دہانی کروائی ہے کہ اسرائیل لبنان کی حدود میں مزید عسکری کارروائیاں نہیں کرے گا، جسے خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

April 11, 2026

امجد طہٰ نے اسلام آباد امن مذاکرات کو ناکام بنانے کے لیے صیہونی ایجنڈے کا سہارا لے لیا۔ نیتن یاہو کے قریبی ساتھی سمجھے جانے والے تجزیہ نگار کا پاکستان اور ترکیہ کی ثالثی کے خلاف بیان دراصل خطے کو جنگ میں دھکیلنے کی سازش ہے

April 11, 2026

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کا نیا باب؛ پاک فضائیہ کے لڑاکا طیارے اسٹریٹجک معاہدے کے تحت کنگ عبدالعزیز ایئر بیس پہنچ گئے۔ اس اقدام کا مقصد علاقائی امن اور دونوں افواج کی آپریشنل صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے

April 11, 2026

وزیراعظم شہباز شریف اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے درمیان اسلام آباد میں ملاقات؛ دونوں رہنماؤں نے خطے میں پائیدار امن کے لیے مذاکرات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے تعمیری انداز میں آگے بڑھنے کے عزم کا اظہار کیا

April 11, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *