سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی بہن نورین خانم کی جانب سے ایک سرکاری افسر عبدالغفور انجم کو براہِ راست دھمکیاں دینے پر ایک نئی قانونی بحث چھڑ گئی ہے۔ نورین خانم نے اپنے ‘ایکس’ (سابقہ ٹویٹر) اکاؤنٹ پر جیل خانہ جات کے افسر کی تصویر شیئر کرتے ہوئے انہیں بانی پی ٹی آئی کی بینائی سے متعلق مبینہ صورتحال کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔
اشتعال انگیز پوسٹ اور پیکا ایکٹ
نورین خانم نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ “سب کچھ یاد رکھا جائے گا، تمہارا انجام نہایت برا ہوگا۔ تمہاری آنکھیں کام نہیں کریں گی اور نہ ہی تمہارے ہاتھ پاؤں حرکت کر سکیں گے۔ تم بانی پی ٹی آئی کی بینائی ختم کرنے کے ذمہ دار ہو۔” اس اشتعال انگیز تحریر کے بعد قانونی ماہرین اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اس عمل کو ایک پبلک سرونٹ کو ہراساں کرنے اور اس کی جان کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ‘پیکا’ ایکٹ کے تحت ایک قابلِ مواخذہ جرم ہے۔
سب یاد رکھا جائے گا !
— Noreen Khanum (@noreen_khanum) February 12, 2026
تمہارا انجام بہت بُرا ہوگا، تمہاری نہ آنکھیں کام کریں گی ، نہ ہی ہاتھ پاؤں کام کریں گے۔۔۔
تم ذمہ دار ہو عمران خان کی بینائی ختم کرنے میں، pic.twitter.com/aRUqjCcs32
اداروں پر دباؤ اور کاروائی کا مطالبہ
سیاسی حلقوں اور سماجی تنظیموں کی جانب سے سرکاری ملازمین کے خلاف اس انداز سے زبان درازی اور اشتعال انگیزی پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ اس طرزِ عمل سے نہ صرف ریاستی اداروں پر غیر ضروری دباؤ بڑھتا ہے بلکہ معاشرے میں انتشار اور قانون شکنی کا خدشہ بھی پیدا ہوتا ہے۔ اب عوامی اور قانونی حلقوں کی جانب سے ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ سے واضح مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے ہراساں کرنے کے اس واقعے کا فوری نوٹس لے کر قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے۔
دیکھیے: عمران خان کو ماہرِ امراض چشم اور بیٹوں سے رابطے کی سہولت دی جائے، سپریم کورٹ