افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان مخالف مسلح مزاحمتی گروہ قومی مزاحمتی محاذ (این آر ایف) نے ایک ہدفی کاروائی کے دوران تین طالبان اہلکاروں کو ہلاک اور ایک کو زخمی کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ کابل کے انتہائی حساس سکیورٹی ماحول میں ہونے والے اس حملے کے بعد خطے میں سکیورٹی صورتحال ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے، تاہم طالبان حکومت کی جانب سے تاحال اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
کاروائی کی تفصیلات
قومی مزاحمتی محاذ کے مطابق یہ کاروائی کابل کے اہم تجارتی اور رہائشی علاقے ضلع 5 میں سیلو روڈ کے قریب انجام دی گئی۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ مزاحمتی جنگجوؤں نے مقامی وقت کے مطابق شام تقریباً سات بجے طالبان اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔
گروپ نے اس کاروائی کو ایک پہلے سے طے شدہ اور انتہائی درست نشانے والی کاروائی قرار دیا ہے، جس کا مقصد طالبان کی سکیورٹی فورسز کو دباؤ میں لانا تھا۔
سکیورٹی گاڑی کو نقصان
این آر ایف کے ترجمان کے مطابق اس حملے کے دوران طالبان کی ایک فوجی گاڑی کو بھی نشانہ بنایا گیا جس سے اسے شدید نقصان پہنچا، تاہم حملے میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی نوعیت کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
محاذ کا مزید کہنا ہے کہ کاروائی انتہائی احتیاط اور منصوبہ بندی سے کی گئی تھی تاکہ اردگرد موجود شہری آبادی محفوظ رہے، اور اس کاروائی کے نتیجے میں کسی بھی عام شہری کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ حملے میں حصہ لینے والے تمام مزاحمتی جنگجو محفوظ طریقے سے اپنے ٹھکانوں پر واپس پہنچ چکے ہیں۔
طالبان کی خاموشی
دوسری جانب کابل کی طالبان انتظامیہ اور سکیورٹی حکام کی طرف سے واقعے کے حوالے سے مکمل خاموشی اختیار کی گئی ہے۔ طالبان کے متعلقہ اداروں نے اب تک جانی یا مالی نقصان کی آزادانہ تصدیق کی ہے اور نہ ہی اس واقعے پر کوئی باضابطہ بیان جاری کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کی آراء
سکیورٹی امور کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کابل جیسے سخت سکیورٹی والے شہر میں اس نوعیت کے دعوے افغانستان میں جاری اندرونی کشیدگی کو ظاہر کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق افغانستان کے مختلف صوبوں میں طالبان فورسز اور مسلح گروہوں کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپوں کی اطلاعات آتی رہتی ہیں، لیکن آزاد ذرائع تک رسائی نہ ہونے اور فریقین کے متضاد بیانات کے باعث فوری طور پر نقصانات کے حقیقی اعداد و شمار کی تصدیق کرنا ہمیشہ ایک بڑا چیلنج رہتا ہے۔
دیکھیے: جی 7 اجلاس؛ افغانستان میں چھوڑا گیا فوجی سازوسامان واپس لے سکتے ہیں، ٹرمپ