افغانستان میں طالبان حکومت کے مخالف مسلح دھڑے نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف) نے طالبان قیادت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان پر خواتین کے حقوق کے حوالے سے منافقانہ اور دوہرا معیار اپنانے کا الزام عائد کیا ہے۔
نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کے میڈیا سیل کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ بیان میں طالبان کی پالیسیوں پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ایک طرف طالبان انتظامیہ غیر ملکی خواتین کے ساتھ تصاویر بنوانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتی، جبکہ دوسری طرف ملک کی مقامی خواتین کو بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے۔
Taliban makes photos with foreign women just because they can’t stop, or harm them as per Doha Accord?
— National Resistance Front (NRF) 🇦🇫 (@NRFMediaCell) June 13, 2026
Taliban continue atrocities against local women! pic.twitter.com/3nZMwaEBBq
دوحہ معاہدے کا حوالہ
این آر ایف نے اپنے بیان میں طنزیہ انداز اختیار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا طالبان غیر ملکی خواتین کے ساتھ تصاویر اس لیے بنواتے ہیں کہ وہ دوحہ معاہدے کی پاسداری کی وجہ سے انہیں کوئی نقصان پہنچانے یا روکنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں؟ بیان میں واضح کیا گیا کہ عالمی برادری اور غیر ملکیوں کے سامنے خود کو نرم مزاج دکھانے والے طالبان کا اصل چہرہ مقامی آبادی کے لیے بالکل مختلف ہے۔
مقامی خواتین کی حالتِ زار
مخالف دھڑے نے الزام عائد کیا ہے کہ افغانستان کے اندرونی حالات انتہائی ابتر ہیں اور طالبان انتظامیہ کی جانب سے افغان خواتین پر مظالم کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی خواتین پر تعلیم، روزگار اور آزادانہ نقل و حرکت سمیت زندگی کے تمام شعبوں میں سخت ترین پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جو ان کے بنیادی انسانی حقوق کی سنگین پامالی ہے۔
عالمی برادری سے اپیل
نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں پر زور دیا ہے کہ وہ طالبان کے اس دوہرے رویے کا نوٹس لیں۔ این آر ایف کے مطابق، طالبان ایک طرف بیرونی دنیا کو مطمئن کرنے کے لیے سفارتی سطح پر لچک کا مظاہرہ کرتے ہیں، لیکن دوسری جانب افغان عوام، بالخصوص خواتین کے خلاف تادیبی اور جابرانہ اقدامات میں کوئی کمی نہیں لائی گئی۔
واضح رہے کہ اگست 2021 میں برسرِاقتدار آنے کے بعد سے طالبان حکومت کو خواتین کی تعلیم اور روزگار پر پابندیوں کے باعث عالمی سطح پر شدید تنقید اور سفارتی تنہائی کا سامنا ہے۔