بلوچستان میں کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے اپنے پُرتشدد ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے خواتین کو استعمال کرنے کی ایک اور شرمناک کوشش کی ہے۔ بی ایل اے نے نام نہاد ‘آپریشن ہیروف 2.0’ کے تحت اپنی ذیلی شاخ ‘مجید بریگیڈ’ سے منسلک ایک خاتون کی تصویر جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ وہ گوادر میں سکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائی میں شامل تھی۔ اسی بیانیے میں کالعدم تنظیم نے ایک اور نوجوان خاتون کی تصویر پیش کرتے ہوئے اسے نوشکی میں ہونے والے ایک واقعے سے منسلک ہے۔
سکیورٹی حلقوں میں تشویش
سکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گرد گروہوں کا خواتین اور نوجوانوں کو اپنے پرتشدد مقاصد کے لیے بھرتی کرنا انتہائی تشویشناک رجحان ہے۔ یہ اقدام نہ صرف ان کے مذموم عزائم کو ظاہر کرتا ہے بلکہ معاشرے کے ناسور حصوں کو متاثر کرنے کی ان کی حکمت عملی بھی عیاں کرتا ہے۔
حکومتی اقدامات
اس صورتحال کے پیش نظر سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے حساس علاقوں میں انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کی شدت میں اضافہ کر دیا ہے۔ دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف کاروائیاں تیز کر دی گئی ہیں اور ان کے مالی وسائل کو منجمد کرنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عوامی یکجہتی
بلوچستان کے عوام اور قبائلی رہنماؤں نے دہشت گردی کی ہر شکل کی مسترد کرتے ہوئے اسے صوبے کی ترقی اور خوشحالی کے راستے میں رکاوٹ قرار دیا ہے۔ علاقے کے باشندے سکیورٹی فورسز کے ساتھ مکمل تعاون پر آمادہ ہیں۔
دیکھیے: بلوچستان اور بیانیے کی جنگ