دینِ اسلام کی بنیادی اقدار امن، سلامتی، احترامِ انسانیت اور معاشرتی استحکام پر قائم ہیں۔ اسلام نے نہ صرف انسانی جان کے تحفظ کو فرض قرار دیا ہے بلکہ بلاوجہ کی خونریزی، تکفیر اور انتشار کو سخت ترین گناہ گردانا ہے۔ تاہم تاریخ کے مختلف ادوار میں ایسے عناصر ابھرتے رہے ہیں جنہوں نے اپنے شریر مقاصد اور سیاسی و عسکری عزائم کی تسکین کے لیے مذہبی نصوص کا سہارا لیا۔
موجودہ دور میں فتنۃ الخوارج کے سربراہ نور ولی محسود کی جانب سے جاری کردہ حالیہ ویڈیو اسی گمراہ کن اور تاریخی خوارج کے تسلسل کی ایک بدترین مثال ہے۔
نور ولی محسود نے اپنے ویڈیو پیغام میں قرآنی آیات کو سیاق و سباق سے کاٹ کر اور تاریخ اسلام کے مسلمہ اصولوں سے انحراف کرتے ہوئے پاکستان کی سکیورٹی فورسز، پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو نشانہ بنانے پر اپنے پیروکاروں کو اکسایا ہے۔ خصوصاً سورۃ التوبہ کی آیت 5 کا حوالہ دے کر مسلمان سپاہیوں اور شہریوں کے قتل کا جو نام نہاد جواز گھڑنے کی کوشش کی گئی، وہ علمی، مذہبی اور عقلی بنیادوں پر سراسر باطل ہے۔
ممتاز علمائے کرام کے متفقہ فیصلوں کے مطابق مذکورہ آیت مخصوص تاریخی حالات یعنی نبی کریم ﷺ کے عہد میں معاہدہ توڑنے والے مشرکینِ مکہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ اس آیت کا اطلاق کلمہ گو مسلمانوں، مساجد و منابر کی محافظ سکیورٹی فورسز اور کسی بھی اسلامی ریاست کے نظام پر کرنا جہالت اور مذہبی نصوص کو مسخ کرنے کی مذموم جسارت ہے۔
پیغامِ پاکستان کا متفقہ مؤقف اس بات کا بین ثبوت ہے کہ دہشت گردی، تکفیر اور مسلم ریاست کے خلاف مسلح بغاوت کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ ملک کے تمام مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے تقریباً 2 ہزار جید علمائے کرام کی تائید اور دستخطوں سے منظور شدہ یہ بیانیہ واضح کرتا ہے کہ سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عام شہریوں پر حملے، نیز خودکش کارروائیاں اسلامی شریعت کی نظر میں شدید ترین گناہ اور حرام ہیں۔
لہٰذا دینی نصوص کی من مانی تشریح کے ذریعے ریاست کے خلاف عسکریت پسندی کا جواز گھڑنا نہ صرف گمراہی ہے بلکہ علمائے امت کے متفقہ فیصلوں اور اسلامی تعلیمات کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔
یہ رویہ حقیقت میں اسی تکفیری اور خارجی ذہنیت کا عکاس ہے جس کا سامنا ابتدائی ادوار میں امتِ مسلمہ کو کرنا پڑا۔ تاریخی خوارج کی سب سے بڑی نشانی یہی تھی کہ وہ مشرکین کے حق میں نازل ہونے والی آیات کا اطلاق مسلمانوں پر کرتے تھے اور باہم خونریزی و بغاوت کو جہاد کا نام دیتے تھے۔
قرآن مجید نے سورۃ المائدہ میں صاف اور واضح الفاظ میں حکم دیا ہے کہ کسی ایک بے گناہ انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے برابر ہے، جبکہ صحیحین کی متفق علیہ احادیث میں مسلمان کی تعریف یہ بیان کی گئی ہے کہ جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے۔ اس صریح ہدایت کے بعد مسلمانوں ہی کے خلاف ہتھیار اٹھانا اور ان کی تکفیر کرنا اسلام کی بنیادی روح پر حملہ ہے۔
شریعت کے مطابق مسلم ریاست کے خلاف مسلح بغاوت اور تشدد کو ہرگز جہاد کا نام نہیں دیا جا سکتا، بلکہ یہ صریح طور پر ‘فساد فی الارض’ ہے۔ سورۃ النساء میں اہل ایمان کو اللہ، اس کے رسول ﷺ اور صاحبانِ امر کی اطاعت کا پابند بنایا گیا ہے تاکہ معاشرے میں امن اور ضبط قائم رہے۔
ملکی سلامتی کے اداروں اور عام شہریوں پر خودکش حملے کرنا، باہمی اتحاد کو پارہ پارہ کرنا اور ملک میں خانہ جنگی کی فضا قائم کرنا دینِ حنیف کی تعلیمات کے یکسر منافی ہے۔ اس حقیقت پر پاکستان کے تمام مکاتبِ فکر کے دو ہزار سے زائد معتبر علمائے کرام نے “پیغامِ پاکستان” کے متفقہ فتویٰ میں مہرِ تصدیق ثبت کی ہے، جس میں صراحت کے ساتھ ریاست کے خلاف عسکریت پسندی اور تکفیری بیانیے کو حرام قرار دیا گیا ہے۔
فتنۃ الخوارج کی جانب سے مقدس مذہبی جذبوں کو استعمال کر کے نوجوانوں کو گمراہ کرنے اور انہیں دہشت گردی کی بھٹی میں جھونکنے کی کوشش نہ صرف سیکیورٹی کا مسئلہ ہے بلکہ یہ ہماری دینی اساس پر بھی ایک گہرا وار ہے۔
اس گمراہ کن اور تحریف شدہ نظریے کا علمی، فکری اور بیانیاتی سطح پر سدِباب کرنا دینی علماء، معارف پرور طبقے اور میڈیا سمیت پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ قرآن و سنت کی سچی تعلیمات کو عام کر کے ہی اس فتنے کی جڑوں کو کاٹا جا سکتا ہے اور یہ باور کرایا جا سکتا ہے کہ مسلم ریاست میں فساد اور خونریزی کبھی جہاد نہیں ہو سکتی۔