...
جرگہ میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے شرکت کی، جن میں سیاسی رہنما، سینیٹرز، ارکان اسمبلی، علما، قبائلی عمائدین اور میڈیا نمائندگان شامل تھے، جنہوں نے متفقہ طور پر امن، استحکام اور باہمی احترام کے فروغ پر زور دیا۔

March 31, 2026

بلیک آؤٹ کے باعث ٹیوب ویلز بند ہو گئے، ہسپتالوں کی سروسز متاثر ہوئیں، آپریشن تھیٹرز کو خطرات لاحق ہوئے جبکہ طلبا انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم ہو گئے۔

March 31, 2026

دونوں ممالک نے سب سے پہلے فوری جنگ بندی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کشیدگی میں مزید اضافہ روکنا ضروری ہے تاکہ متاثرہ علاقوں تک انسانی امداد پہنچائی جا سکے۔

March 31, 2026

سعودی۔پاکستان شراکت داری اس پیش رفت کی بنیاد ہے، جو دہائیوں پر محیط دفاعی، معاشی اور ادارہ جاتی تعاون پر قائم ہے۔ حالیہ بحران میں دونوں ممالک کا تعاون دفاعی نوعیت کا ہے، جس کا مقصد علاقائی استحکام اور خودمختاری کا تحفظ ہے۔

March 31, 2026

ماہرین کے مطابق موجودہ عالمی حالات میں، جہاں جغرافیائی کشیدگی اور سپلائی چین کے مسائل بڑھ رہے ہیں، پی این ایس سی جیسے ادارے پاکستان کے لیے ایک اسٹریٹجک اثاثہ بن چکے ہیں۔

March 31, 2026

ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اب ہر ملک کی مدد نہیں کرے گا، آپ کو خود لڑنا سیکھنا ہوگا، امریکا اب آپ کی مدد کے لیے موجود نہیں ہو گا، بالکل اسی طرح جیسے آپ ہمارے ساتھ نہیں تھے۔

March 31, 2026

پشاور میں پاک افغان امن جرگہ کا انعقاد، سیاسی و قبائلی قائدین کی شرکت؛ مشترکہ اعلامیہ میں جنگ بندی اور مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا گیا

جرگہ میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے شرکت کی، جن میں سیاسی رہنما، سینیٹرز، ارکان اسمبلی، علما، قبائلی عمائدین اور میڈیا نمائندگان شامل تھے، جنہوں نے متفقہ طور پر امن، استحکام اور باہمی احترام کے فروغ پر زور دیا۔
پشاور میں پاک افغان امن جرگہ کا انعقاد، سیاسی و قبائلی قائدین کی شرکت؛ مشترکہ اعلامیہ میں جنگ بندی اور مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا گیا

گہ کے اعلامیے میں دونوں ممالک سے فوری جنگ بندی کی اپیل کی گئی اور اس بات پر زور دیا گیا کہ اپنی سرزمین کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

March 31, 2026

پشاور میں منعقد ہونے والے “پاکستان افغانستان امن جرگہ” میں خیبرپختونخوا کے سیاسی، مذہبی، قبائلی اور سماجی رہنماؤں نے شرکت کی، جہاں دونوں برادر ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ جرگہ کا انعقاد کے پی انسپائر اور قومی اصلاحی تحریک کے تحت 31 مارچ 2026 کو کیا گیا، جس کا مقصد ایک ایسے مشترکہ پلیٹ فارم کی فراہمی تھا جہاں سنجیدہ مکالمے کے ذریعے امن کی راہ تلاش کی جا سکے۔

اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ پاکستان اور افغانستان کے عوام صدیوں پر محیط مشترکہ دینی، ثقافتی اور سماجی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں، جنہیں کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ شرکاء نے موجودہ کشیدہ صورتحال کو دونوں ممالک کے عوام کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے فوری اقدامات کی ضرورت پر اتفاق کیا۔

جرگہ کے اعلامیے میں دونوں ممالک سے فوری جنگ بندی کی اپیل کی گئی اور اس بات پر زور دیا گیا کہ اپنی سرزمین کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ شرکاء نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ تمام تنازعات کو صرف مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے، کیونکہ جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک مستقل اور مشترکہ رابطہ پلیٹ فارم قائم کیا جائے تاکہ غلط فہمیوں کا ازالہ ہو اور ایک دوسرے کے مؤقف کو بہتر انداز میں سمجھا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ اعتماد سازی کے اقدامات کو بھی ناگزیر قرار دیا گیا۔

جرگہ کے شرکاء نے پالیسی سازوں کو واضح پیغام دیا کہ کسی بھی گروہی مفاد کو پاکستان اور افغانستان کے وسیع تر قومی مفادات اور عوامی سلامتی پر ترجیح نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دیرپا امن کے لیے باہمی احترام اور افہام و تفہیم ہی واحد راستہ ہے۔

مستقبل کے لائحہ عمل کے حوالے سے منتظمین نے اعلان کیا کہ اس پلیٹ فارم کو مزید وسعت دی جائے گی اور قومی سطح پر سیاسی، مذہبی اور سماجی قیادت کو شامل کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ شہری سطح پر سفارت کاری کو فروغ دے کر دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور امن کے قیام کی کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

جرگہ میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے شرکت کی، جن میں سیاسی رہنما، سینیٹرز، ارکان اسمبلی، علما، قبائلی عمائدین اور میڈیا نمائندگان شامل تھے، جنہوں نے متفقہ طور پر امن، استحکام اور باہمی احترام کے فروغ پر زور دیا۔

امن جرگہ میں خیبرپختونخوا اور قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والی اہم سیاسی، قبائلی، مذہبی اور سماجی شخصیات نے شرکت کی، جن میں شوکت اللہ خان باجوڑ، انجینئر احسان اللہ خان (اے این پی)، جنید الطاف (چیمبر صدر)، غلام علی حاجی، عابد حسین شاکری، نورالحق قادری، احمد کنڈی، نثار خان (میڈیا)، مفتی عبدالغنی بنوں، سید یوسف شاہ (اکوڑہ خٹک)، سینیٹر حمیداللہ جان آفریدی، ساجد طوری (ایم این اے)، جی جی جمال، حاجی صوبیدار مہمند، ملک کلام خان (شمالی وزیرستان)، مفتی عبدالغنی فیزو، مولانا محمود عالم ایڈووکیٹ (وزیرستان)، نور امین پروفیسر، سراج الحق (دیر اپر)، ملک فخر زمان (کرم) اور شاہ جی آفریدی شامل تھے۔

اسی طرح دیگر شرکاء میں شیخ ادریس، شیخ طیب (جاز)، سینیٹر عبدالرشید باجوڑ، ملک نصراللہ خان، ملک خان زیب داوڑ، ملک شاہ جہاں، ملک شہزادہ خان، ملک میر قادر خان (شمالی وزیرستان)، اے آئی جی رحمت خان محسود (جنوبی وزیرستان)، ملک قادر خان، ملک نادر منان مہمند، طاہر خان (میڈیا)، احسان اللہ ٹیپو (میڈیا)، مشتاق یوسفزئی (میڈیا)، عنایت اللہ خان (جماعت اسلامی) اور ڈاکٹر عباد خان (مسلم لیگ ن) شامل تھے، جنہوں نے متفقہ طور پر امن، مکالمے اور کشیدگی کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا۔

متعلقہ مضامین

بلیک آؤٹ کے باعث ٹیوب ویلز بند ہو گئے، ہسپتالوں کی سروسز متاثر ہوئیں، آپریشن تھیٹرز کو خطرات لاحق ہوئے جبکہ طلبا انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم ہو گئے۔

March 31, 2026

دونوں ممالک نے سب سے پہلے فوری جنگ بندی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کشیدگی میں مزید اضافہ روکنا ضروری ہے تاکہ متاثرہ علاقوں تک انسانی امداد پہنچائی جا سکے۔

March 31, 2026

سعودی۔پاکستان شراکت داری اس پیش رفت کی بنیاد ہے، جو دہائیوں پر محیط دفاعی، معاشی اور ادارہ جاتی تعاون پر قائم ہے۔ حالیہ بحران میں دونوں ممالک کا تعاون دفاعی نوعیت کا ہے، جس کا مقصد علاقائی استحکام اور خودمختاری کا تحفظ ہے۔

March 31, 2026

ماہرین کے مطابق موجودہ عالمی حالات میں، جہاں جغرافیائی کشیدگی اور سپلائی چین کے مسائل بڑھ رہے ہیں، پی این ایس سی جیسے ادارے پاکستان کے لیے ایک اسٹریٹجک اثاثہ بن چکے ہیں۔

March 31, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.