...
دہشتگردی صرف سکیورٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے معاشی مشکلات، کمزور ادارے اور سماجی عوامل بھی کارفرما ہوتے ہیں، اس لیے اس کے خاتمے کیلئے جامع حکمت عملی درکار ہے۔

March 21, 2026

انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت کو اندرونی خلفشار سے دوچار کر دینا کتنا بڑا جرم ہو گا۔ ان کی محبت عقیدت کا گھنٹہ گھر ایک شخص ہے ۔ اس کے علاوہ جو بھی ہے ان کی جانے بلا۔

March 21, 2026

آرمی چیف نے ایران کے حوالے سے گفتگو میں واضح کیا کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو ایران کے ساتھ کھڑے ہیں اور خطے میں جنگی کشیدگی کم کرنے کیلئے کردار ادا کر رہا ہے

March 20, 2026

بڑی تعداد میں فلسطینی مسجد میں داخل نہ ہو سکے اور انہیں باہر ہی نماز ادا کرنا پڑی۔ اس اقدام کو فلسطینی حلقوں نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے

March 20, 2026

نیتن یاہو نے ایک بیان میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا موازنہ منگول حکمران چنگیز خان سے کیا اور طاقت و جارحیت سے متعلق گفتگو کی

March 20, 2026

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 48 پوائنٹس کے ساتھ رینکنگ میں پانچویں نمبر پر رہی

March 20, 2026

پاک۔افغان تعلقات میں اہم پیشرفت: دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد پر اتفاق

پاک۔افغان وفد نےمذاکرات کےدوران خطےمیں دہشتگردی بالخصوص افغان سرحد دہستگردی کو امن و سلامتی کےلیے سنگین خطرہ قراردیا
پاک۔افغان وفد نےمذاکرات کےدوران خطےکی دہشتگردی بالخصوص پاک۔افغان سرحد دہستگردی کو امن و سلامتی کےلیے سنگین خطرہ قراردی

افغان ایڈیسنل سیکرٹری مفتی نور احمد نور اور پاکستانی ایڈیسنل سیکرٹری خارجہ سید علی اسد گیلانی مذاکرات کے بعد مصافحہ کرتےہوِئے

July 8, 2025

اسلام آباد 7 جولائی : پاک۔افغان مذاکرات کا پہلا دور کامیابی سےاختتام پذیر ہوا جس میں تجارت،باہمی تعاون اورامن واستحکام، نیز دہشتگردی جیسے اہم موضوعات پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔ پاکستانی وفد کی قیادت ایڈیشنل سیکرٹری سید علی اسد گیلانی نے کی، جبکہ افغان وفد کی قیادت افغانستان کے وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل مفتی نور احمد نور نے کی۔ مذاکرات کےپہلےدورمیں دو طرف تجارت، خطے میں امن واستحکام، اورسفارتی روابط سمیت دہشتگردی جیسے سنگین مسائل زیرِبحث آئے۔

پاک۔افغان وفد نےمذاکرات کےدوران خطےکی دہشتگردی بالخصوص پاک۔افغان سرحد دہشتگردی کو امن و سلامتی کےلیے سنگین خطرہ قراردیا۔

پاکستانی وفد کی قیادت ایڈیشنل سیکرٹری (افغانستان اور مغربی ایشیا) سید علی اسد گیلانی نے کی، جبکہ افغان وفد کی قیادت افغان وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل مفتی نور احمد نور نے کی۔

پاکستانی وفد نے واضح کیا کہ افغان سرزمین سے ہونے والی سرحد پار دہشت گردی پاکستان کی سلامتی کے لیے مستقل چیلنج بنی ہوئی ہے۔ وفد نے افغان حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے خلاف دوٹوک مؤقف اپناتےہوئےمؤثر کارروائی کریں۔

دوسری جانب افغان وفد نے بھی دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد کی اہمیت کو تسلیم کیا اور کہا کہ یہ مسئلہ دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اور باہمی تعاون کے بغیر خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں۔۔


افغان شہریوں کی واپسی

افغان وفد کے سربراہ مفتی نور احمد نور نے افغان شہریوں کے مسائل پر بات کرتےہوئے کہاکہ انکے ویزہ جاری کرنےکےعمل کو آسان بنایاجائے۔


یادرہےکہ پاکستان نے جنوری 2024 سے اب تک 500,000 سے زائد ویزے جاری کیے ہیں، جن میں طبی، سیاحتی، کاروباری اور تعلیمی ویزے شامل ہیں۔ دونوں ممالک نے باہمی مسائل کے حل اور روابط میں مزید بہتری کےلیےاپنے عزم کا اعادہ کیا۔

دیکھیں: دہشت گردوں کی افغان سرحد سےپاکستان میں گھسنے کی کوشش ناکام

متعلقہ مضامین

دہشتگردی صرف سکیورٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے معاشی مشکلات، کمزور ادارے اور سماجی عوامل بھی کارفرما ہوتے ہیں، اس لیے اس کے خاتمے کیلئے جامع حکمت عملی درکار ہے۔

March 21, 2026

انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت کو اندرونی خلفشار سے دوچار کر دینا کتنا بڑا جرم ہو گا۔ ان کی محبت عقیدت کا گھنٹہ گھر ایک شخص ہے ۔ اس کے علاوہ جو بھی ہے ان کی جانے بلا۔

March 21, 2026

آرمی چیف نے ایران کے حوالے سے گفتگو میں واضح کیا کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو ایران کے ساتھ کھڑے ہیں اور خطے میں جنگی کشیدگی کم کرنے کیلئے کردار ادا کر رہا ہے

March 20, 2026

بڑی تعداد میں فلسطینی مسجد میں داخل نہ ہو سکے اور انہیں باہر ہی نماز ادا کرنا پڑی۔ اس اقدام کو فلسطینی حلقوں نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے

March 20, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.