اقوام متحدہ میں پاکستان نے واضح کیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے مسئلہ کشمیر کا یو این قراردادوں کے مطابق منصفانہ حل ناگزیر ہے۔

June 6, 2026

ساؤتھ ایشیا ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں دہشت گردی کی اصل جڑ خارجیت’کا نظریہ ہے، جس کے مستقل خاتمے کے لیے عسکری کارروائیوں کے ساتھ فکری ابطال ناگزیر ہے۔

June 6, 2026

میڈرڈ میں یورپی پارلیمنٹ کے باہر افغان تارکینِ وطن نے طالبان کی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔

June 6, 2026

دی ڈپلومیٹ کا حالیہ مضمون علاقائی حقائق کے برعکس بھارتی بیانیے اور پروپیگنڈے کی ترجمانی ہے۔

June 6, 2026

آزاد کشمیر کی تمام سیاسی قیادت اور اپوزیشن جماعتیں جے اے اے سی کی ہٹ دھرمی، بلیک میلنگ اور دباؤ کی سیاست کے خلاف مکمل طور پر یکسو اور متحد ہیں

June 6, 2026

آزاد کشمیر حکومت نے عوامی ایکشن کمیٹی کا بیانیہ گمراہ کن قرار دے دیا۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ 35 مطالبات کی منظوری کے بعد احتجاج کا اصرار سیاسی ضد ہے، قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

June 5, 2026

پاک۔افغان تعلقات میں اہم پیشرفت: دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد پر اتفاق

پاک۔افغان وفد نےمذاکرات کےدوران خطےمیں دہشتگردی بالخصوص افغان سرحد دہستگردی کو امن و سلامتی کےلیے سنگین خطرہ قراردیا
پاک۔افغان وفد نےمذاکرات کےدوران خطےکی دہشتگردی بالخصوص پاک۔افغان سرحد دہستگردی کو امن و سلامتی کےلیے سنگین خطرہ قراردی

افغان ایڈیسنل سیکرٹری مفتی نور احمد نور اور پاکستانی ایڈیسنل سیکرٹری خارجہ سید علی اسد گیلانی مذاکرات کے بعد مصافحہ کرتےہوِئے

July 8, 2025

اسلام آباد 7 جولائی : پاک۔افغان مذاکرات کا پہلا دور کامیابی سےاختتام پذیر ہوا جس میں تجارت،باہمی تعاون اورامن واستحکام، نیز دہشتگردی جیسے اہم موضوعات پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔ پاکستانی وفد کی قیادت ایڈیشنل سیکرٹری سید علی اسد گیلانی نے کی، جبکہ افغان وفد کی قیادت افغانستان کے وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل مفتی نور احمد نور نے کی۔ مذاکرات کےپہلےدورمیں دو طرف تجارت، خطے میں امن واستحکام، اورسفارتی روابط سمیت دہشتگردی جیسے سنگین مسائل زیرِبحث آئے۔

پاک۔افغان وفد نےمذاکرات کےدوران خطےکی دہشتگردی بالخصوص پاک۔افغان سرحد دہشتگردی کو امن و سلامتی کےلیے سنگین خطرہ قراردیا۔

پاکستانی وفد کی قیادت ایڈیشنل سیکرٹری (افغانستان اور مغربی ایشیا) سید علی اسد گیلانی نے کی، جبکہ افغان وفد کی قیادت افغان وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل مفتی نور احمد نور نے کی۔

پاکستانی وفد نے واضح کیا کہ افغان سرزمین سے ہونے والی سرحد پار دہشت گردی پاکستان کی سلامتی کے لیے مستقل چیلنج بنی ہوئی ہے۔ وفد نے افغان حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے خلاف دوٹوک مؤقف اپناتےہوئےمؤثر کارروائی کریں۔

دوسری جانب افغان وفد نے بھی دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد کی اہمیت کو تسلیم کیا اور کہا کہ یہ مسئلہ دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اور باہمی تعاون کے بغیر خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں۔۔


افغان شہریوں کی واپسی

افغان وفد کے سربراہ مفتی نور احمد نور نے افغان شہریوں کے مسائل پر بات کرتےہوئے کہاکہ انکے ویزہ جاری کرنےکےعمل کو آسان بنایاجائے۔


یادرہےکہ پاکستان نے جنوری 2024 سے اب تک 500,000 سے زائد ویزے جاری کیے ہیں، جن میں طبی، سیاحتی، کاروباری اور تعلیمی ویزے شامل ہیں۔ دونوں ممالک نے باہمی مسائل کے حل اور روابط میں مزید بہتری کےلیےاپنے عزم کا اعادہ کیا۔

دیکھیں: دہشت گردوں کی افغان سرحد سےپاکستان میں گھسنے کی کوشش ناکام

متعلقہ مضامین

اقوام متحدہ میں پاکستان نے واضح کیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے مسئلہ کشمیر کا یو این قراردادوں کے مطابق منصفانہ حل ناگزیر ہے۔

June 6, 2026

ساؤتھ ایشیا ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں دہشت گردی کی اصل جڑ خارجیت’کا نظریہ ہے، جس کے مستقل خاتمے کے لیے عسکری کارروائیوں کے ساتھ فکری ابطال ناگزیر ہے۔

June 6, 2026

میڈرڈ میں یورپی پارلیمنٹ کے باہر افغان تارکینِ وطن نے طالبان کی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔

June 6, 2026

دی ڈپلومیٹ کا حالیہ مضمون علاقائی حقائق کے برعکس بھارتی بیانیے اور پروپیگنڈے کی ترجمانی ہے۔

June 6, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *