نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے بیجنگ میں اپنے چینی ہم منصب وانگ ای سے اہم ملاقات کی ہے، جس میں دونوں ممالک نے مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطے میں استحکام کے لیے ایک مشترکہ پانچ نکاتی اقدام لانچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ دورہ پاک چین سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد ہوا، جس میں دوطرفہ تعاون کی مجموعی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔
دفترِ خارجہ کے مطابق ملاقات میں علاقائی و عالمی سلامتی کے امور پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ چینی وزیرِ خارجہ وانگ ای نے مغربی ایشیا میں تنازعات کے خاتمے اور امن کی بحالی کے لیے پاکستان کے متحرک سفارتی کردار اور اسلام آباد میں ہونے والی حالیہ کثیر الملکی ملاقاتوں کو بھرپور سراہا۔ مشترکہ اعلامیے میں مشرقِ وسطیٰ میں فوری جنگ بندی، شہریوں کے تحفظ اور سفارتی ذرائع سے مسائل کے حل پر زور دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، آبنائے ہرمز سمیت اہم تجارتی گزرگاہوں کی حفاظت اور عالمی تجارت کی بلا تعطل روانی کو بھی اس پانچ نکاتی فارمولے کا حصہ بنایا گیا ہے۔
ملاقات کے دوران سی پیک کے تحت اسٹریٹجک تعاون اور اعلیٰ سطح کے رابطوں کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے افغانستان کی صورتحال اور خطے سے دہشت گردی کے مؤثر خاتمے کی اہمیت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اسحاق ڈار نے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں پر روشنی ڈالی، جسے چین نے عالمی امن کے لیے ایک مثبت قدم قرار دیا۔
دیکھیے: چین کی میزبانی میں پاک افغان امن مذاکرات کا آغاز،اُرومچی میں کل اہم اجلاس متوقع