بین الاقوامی تعلقات اور عالمی سیاست کے پیچیدہ منظر نامے میں بعض اوقات معاملات کو مخصوص مقاصد کے حصول کے لیے غیر ضروری طور پر متنازع بنا دیا جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں متحدہ عرب امارات کے مالیاتی ڈیپازٹس کی واپسی کے حوالے سے سوشل میڈیا کے بعض گوشوں، بالخصوص چند عرب اکاؤنٹس کی جانب سے جس طرح کا منفی بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کی گئی، وہ نہ صرف حقیقت سے بعید ہے بلکہ پاک امارات تعلقات کی گہرائی سے مکمل ناواقفیت پر مبنی ہے۔ اس منظم مہم میں امجد طہ جیسے متنازع عناصر اور مخصوص صیہونی نواز لابی کے آلہ کار اکاؤنٹس کا پیش پیش ہونا اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ یہ محض ایک مالیاتی تبصرہ نہیں تھا، بلکہ دو برادر اسلامی ممالک کے مابین دہائیوں پر محیط اعتماد کو سبوتاژ کرنے کی ایک مذموم کوشش تھی۔ ان عناصر نے معمول کی مالیاتی کاروائی کو ‘سفارتی دوری’ کا رنگ دے کر سنسنی خیزی پیدا کرنے کی کوشش کی، جو کہ ایک لایعنی پراپیگنڈا کے سوا کچھ نہیں۔
پاکستان کی حالیہ معاشی تاریخ میں 2022 کا سال ایک سنگین امتحان کی مانند تھا، جب ادائیگیوں کے توازن میں بگاڑ اور سیاسی عدم استحکام کے باعث ملک کے مائع زرمبادلہ کے ذخائر تشویشناک حد تک گر کر 7 ارب ڈالر سے بھی کم رہ گئے تھے۔ اس وقت دنیا پاکستان کے معاشی دیوالیہ ہونے کی پیشگوئیاں کر رہی تھی، لیکن آج مارچ 2026 کے اختتام پر 21.79 ارب ڈالر کے ذخائر ان تمام اندیشوں کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوئے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے طویل مدتی ڈیپازٹس کی واپسی درحقیقت پاکستان کی ‘مالیاتی پختگی’ کا وہ اعلان ہے جس کا انتظار طویل عرصے سے کیا جا رہا تھا۔ یہ اقدام کسی قسم کے مالیاتی تناؤ کا نہیں بلکہ ‘مالیاتی وقار’ کا مظہر ہے؛ یہ اس حقیقت کی گواہی ہے کہ پاکستان اب اس پوزیشن میں ہے کہ وہ اپنے زرمبادلہ کے ذخائر کے استحکام کو برقرار رکھتے ہوئے اپنی تمام بین الاقوامی مالیاتی ذمہ داریاں تندہی سے پوری کرے۔
پاک امارات تعلقات کی جڑیں کسی عارضی مالی مفاد میں نہیں، بلکہ ایک ایسی تزویراتی گہرائی میں پیوست ہیں جس کی مثال خطے میں کم ہی ملتی ہے۔ یہ رشتہ اس لازوال دفاعی اشتراک کا امین ہے جس کے تحت پاکستانی ماہرین اور مسلح افواج نے متحدہ عرب امارات کے دفاعی ڈھانچے کی آبیاری کی، وہاں کے عسکری اداروں کو تربیت فراہم کی اور کمانڈو یونٹس کی بنیاد رکھی۔ اس تزویراتی بندھن کو مضبوط بنانے میں ان 16 لاکھ پاکستانی تارکینِ وطن کا کردار بھی کلیدی ہے جو اماراتی معیشت اور انفراسٹرکچر کی تعمیر و ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مزید برآں، سال 2024 میں طے پانے والے 3 ارب ڈالر سے زائد کے تاریخی سرمایہ کاری معاہدے اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ دونوں ممالک کے تعلقات اب محض روایتی تعاون سے آگے بڑھ کر ایک پائیدار اقتصادی شراکت داری میں تبدیل ہو چکے ہیں۔
پاک امارات تعلقات کی اساس صرف سفارتی پروٹوکولز تک محدود نہیں، بلکہ اس کی اصل قوت وہ ‘دفاعی اور انسانی رشتہ’ ہے جس نے ہر آزمائش میں اس دوستی کو سرخرو کیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے قیام اور ان کی پیشہ ورانہ خطوط پر استوار سازی میں پاکستانی مسلح افواج نے ابتدائی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اماراتی ایئر فورس کی ابتدائی تربیت سے لے کر کمانڈو یونٹس کی تشکیل اور جدید عسکری مہارتوں کی منتقلی تک، پاکستان نے اپنے برادر ملک کے دفاع کو اپنا دفاع سمجھا۔ یہ وہ تزویراتی گہرائی ہے جسے کسی بھی قسم کی مالیاتی قیاس آرائی سے ناپا نہیں جا سکتا۔
دوسری جانب اس رشتے کی ریڑھ کی ہڈی وہ 16 لاکھ پاکستانی تارکینِ وطن ہیں جنہوں نے گزشتہ نصف صدی کے دوران متحدہ عرب امارات کی تعمیر و ترقی میں اپنے خون پسینے کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ فلک بوس عمارتوں کی تعمیر، شاہراہوں اور جدید ترین پورٹس کے انتظام تک پاکستانی مزدوروں، انجینئرز اور ڈاکٹروں کی محنت اماراتی انفراسٹرکچر کی بنیادوں میں شامل ہے۔ یہ انسانی سرمایہ ایک ایسا رشتہ ہے جو محض حکومتی سطح کے معاہدوں کا محتاج نہیں، بلکہ عوامی سطح پر دونوں ملکوں کے دھڑکتے ہوئے دلوں کی ترجمانی کرتا ہے۔ جب معاشی ماہرین 2024 کے 3 ارب ڈالر کے سرمایہ کاری معاہدوں کی بات کرتے ہیں، تو درحقیقت وہ اسی برسوں پر محیط محنت اور باہمی اعتماد کی فصل کاٹ رہے ہوتے ہیں، جس نے اب ‘امداد’ کے تصور کو ‘مضبوط معاشی اشتراک’ میں بدل دیا ہے۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ پاکستان کی معاشی ساکھ اب عالمی مالیاتی اداروں اور برادر ممالک کی نظر میں مکمل طور پر بحال ہو چکی ہے۔ متحدہ عرب امارات ایک ایسا آزمودہ دوست ہے جس نے ہر کڑے وقت میں پاکستان کا دستِ بازو بن کر ساتھ نبھایا، اور اب پاکستان کا اپنی مالیاتی ذمہ داریاں بطریقِ احسن پوری کرنا درحقیقت اسی باہمی اعتماد کو جلا بخشنے کا ایک ذریعہ ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ امجد طہ جیسے کرداروں اور صیہونی لابی کے پراپیگنڈا سیلز کی جانب سے پھیلائے جانے والے زہریلے مواد کو حقائق کے ادراک اور سفارتی فراست سے مسترد کر دیا جائے۔ پاک امارات تزویراتی شراکت داری ایک ناقابلِ تسخیر حقیقت ہے جو نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے استحکام اور معاشی خوشحالی کے لیے ایک ناگزیر بنیاد فراہم کرتی ہے۔