نیویارک: پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والا حالیہ امن معاہدہ خطے میں کشیدگی کو کم کرنے اور علاقائی استحکام کو فروغ دینے کا ایک تاریخی موقع فراہم کرتا ہے۔ پاکستان کے مطابق یہ پیش رفت یمن میں طویل عرصے سے جاری تنازع کے مستقل حل اور وہاں جاری امن عمل کو بھی نئی اور مثبت تقویت دے سکتی ہے۔
یمن کی موجودہ صورتحال
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں یمن کی صورتحال پر منعقدہ بریفنگ کے دوران پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے خطاب کیا۔ انہوں نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ حالیہ علاقائی سفارتی پیش رفت نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ شدید ترین خطرات کے باوجود سفارت کاری ہی پیچیدہ مسائل کے پائیدار حل کا سب سے مؤثر راستہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس معاہدے سے پیدا ہونے والی مثبت فضا یمن سمیت پورے خطے میں سیاسی مفاہمت کے لیے ایک انتہائی سازگار ماحول پیدا کرے گی۔
تجارتی راستوں کی بحالی
سفیر عاصم افتخار احمد کا کہنا تھا کہ اگرچہ یمن کو اب بھی مختلف سیاسی، معاشی اور انسانی بحرانوں کا سامنا ہے، تاہم حالیہ مہینوں کے دوران ملک کے اندر صورتحال نسبتاً پرامن رہی ہے۔ اس عرصے میں نہ تو بڑے پیمانے پر کوئی عسکری جھڑپیں دیکھنے میں آئی ہیں اور نہ ہی تجارتی بحری جہازوں پر حملے رپورٹ ہوئے ہیں۔
انہوں نے اس مثبت تبدیلی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ فریقین کے درمیان کشیدگی میں کمی لانا ممکن ہے اور باہمی مذاکرات کے ذریعے کسی بھی تنازع کا پرامن حل نکالا جا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کا کردار
پاکستانی مندوب نے حوثی باغیوں اور یمنی حکومت کے درمیان تقریباً 1,600 قیدیوں اور زیر حراست افراد کے تبادلے کے حالیہ معاہدے کا بھی خیرمقدم کیا اور اسے اعتماد سازی کی جانب ایک بڑا اور اہم قدم قرار دیا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یمن میں دیرپا امن صرف اقوام متحدہ کی سرپرستی میں ہی ممکن ہے، جہاں تمام یمنی فریقین کی شمولیت کے ساتھ ایک جامع سیاسی عمل کو آگے بڑھایا جائے۔
عالمی برادری سے اپیل
اپنے خطاب کے اختتام پر سفیر عاصم افتخار احمد نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ یمن کے شدید انسانی اور معاشی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے اپنی امدادی کوششوں میں فوری اضافہ کرے۔
انہوں نے سلامتی کونسل کے ارکان پر بھی زور دیا کہ وہ ایک متحد اور تعمیری کردار ادا کرتے ہوئے ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال یمن کے قیام کے لیے اپنا تعاون جاری رکھیں تاکہ یمنی عوام طویل بحران کے بعد امن کے حقیقی ثمرات سے مستفید ہو سکیں۔