چیرمین واپڈا نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ کی یکطرفہ معطلی اور مغربی دریاؤں پر تعمیراتی سرگرمیاں پاکستان کے آبی، غذائی اور معاشی تحفظ کے لیے سنگین تزویراتی خطرہ ہیں۔

July 6, 2026

خوست میں طالبان کمانڈروں کی جانب سے خواتین کی مبینہ بے حرمتی اور فوجی عدالت کی طرف سے متاثرہ خاندان کو دھمکیوں نے افغان نظامِ انصاف کو بے نقاب کر دیا ہے۔

July 5, 2026

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں پاکستانی وفد کی شرکت کو ماہرین نے اسلام آباد کی متوازن خارجہ پالیسی اور علاقائی استحکام کی کوششوں کا تسلسل قرار دیا ہے۔

July 4, 2026

افغانستان میں طالبان کی پابندیوں کے بعد لڑکیوں کے لیے آن لائن تعلیم ہی واحد راستہ تھی، مگر غربت اور انٹرنیٹ کی کمی بڑی رکاوٹ بن گئی ہیں۔

July 3, 2026

بلوچستان کے ضلع ژوب میں کوئٹہ سے پشاور جانے والی مسافر بس گہری کھائی میں گرنے سے 40 مسافر جاں بحق ہو گئے۔

July 3, 2026

امریکہ نے افغانستان میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر پاکستان کے فضائی حملوں کو شہریوں اور سرزمین کے دفاع کا جائز حق قرار دے دیا۔

July 3, 2026

افغان مہاجرین کے لیے پاکستان کی پالیسی ملکی استحکام اور عالمی اصولوں کے عین مطابق قرار

ترقی یافتہ ممالک اگر پناہ گزینوں کو نکالنے جیسے اقدامات کر سکتے ہیں تو پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے ان اقدامات پر دباؤ میں ڈالنا دوہرا معیار ہے
ترقی یافتہ ممالک اگر پناہ گزینوں کو نکالنے جیسے اقدامات کر سکتے ہیں تو پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے ان اقدامات پر دباؤ میں ڈالنا دوہرا معیار ہے

پاکستان یورپی ممالک کی طرح ملکی استحکام کے لیے پناہ گزینوں کی واپسی کے اقدامات کر رہا ہے

December 23, 2025

یورپ اپنے وسائل، مضبوط اداروں اور اقتصادی طاقت کے باوجود پناہ گزینوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو سنبھالنے میں مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ یورپی ممالک امن وامان اور معاشی استحکام کے باوجود پناہ گزینوں کو نکالنے پر مجبور ہیں۔ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کے لیے بھی پناہ گزینوں کے تحفظ کی عملی حدود موجود ہیں۔

پاکستان یورپی معیار کے مطابق کاربند

یورپ کے ترقی یافتہ ممالک وسائل کے باوجود پناہ گزینوں کی مکمل کفالت نہیں کر سکتے تو پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک سے یہ توقع رکھنا کہ وہ لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی خود کفالت کرے، حقیقت پسندانہ اور زمینی حقائق سے میل نہیں کھاتا۔ پاکستان محدود وسائل، بڑھتی ہوئی آبادی، مہنگائی، بے روزگاری اور دہشت گردی جیسے داخلی چیلنجز کے ساتھ پناہ گزینوں کے اُمور بھی سنبھال رہا ہے۔

پاکستان کی دہائیوں پر محیط پالیسی

پاکستان کئی دہائیوں سے پناہ گزینوں کی میزبانی کرتا چلا آ رہا ہے جس کی مدت اور تسلسل یورپی ممالک سے کہیں زیادہ ہے۔ اس دوران پناہ گزینوں کو ہمیشہ عارضی پناہ دی گئی ہے مستقل قیام نہیں۔ یہی اصول اب یورپ بھی اپنا رہا ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کی پالیسی عالمی معیارات کے مطابق ہے اور کسی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی نہیں۔

خودمختار ریاستوں کو اپنے سرحدی کنٹرول اور پناہ گزینوں کی واپسی کے نفاذ کا حق حاصل ہے۔ یورپی ممالک بھی اسی حق کے تحت پناہ گزینوں کی تعداد کو منظم کر رہے ہیں۔ پاکستان بھی داخلی استحکام اور قومی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے پناہ گزینوں کی واپسی کے اقدامات کر رہا ہے۔

ماہرین کی رائے

ماہرین کے مطابق اگر ترقی یافتہ ممالک پناہ گزینوں کو نکالنے جیسے اقدامات کرسکتے ہیں تو ترقی پذیر ممالک پر اس معاملے میں دباؤ ڈالنا ناانصافی ہوگی۔ پاکستان کی جانب سے پناہ گزینوں کی واپسی عالمی قوانینن کے مطابق ہے اور یہ داخلی استحکام اور انسانی ہمدردی کے توازن کو برقرار رکھنے کی مؤثر حکمت عملی ہے۔

دیکھیں: طالبان کا نظم اور افغانستان کا غیر یقینی مستقبل

متعلقہ مضامین

چیرمین واپڈا نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ کی یکطرفہ معطلی اور مغربی دریاؤں پر تعمیراتی سرگرمیاں پاکستان کے آبی، غذائی اور معاشی تحفظ کے لیے سنگین تزویراتی خطرہ ہیں۔

July 6, 2026

خوست میں طالبان کمانڈروں کی جانب سے خواتین کی مبینہ بے حرمتی اور فوجی عدالت کی طرف سے متاثرہ خاندان کو دھمکیوں نے افغان نظامِ انصاف کو بے نقاب کر دیا ہے۔

July 5, 2026

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں پاکستانی وفد کی شرکت کو ماہرین نے اسلام آباد کی متوازن خارجہ پالیسی اور علاقائی استحکام کی کوششوں کا تسلسل قرار دیا ہے۔

July 4, 2026

افغانستان میں طالبان کی پابندیوں کے بعد لڑکیوں کے لیے آن لائن تعلیم ہی واحد راستہ تھی، مگر غربت اور انٹرنیٹ کی کمی بڑی رکاوٹ بن گئی ہیں۔

July 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *