"> افغان مہاجرین کے لیے پاکستان کی پالیسی ملکی استحکام اور عالمی اصولوں کے عین مطابق قرار - HTN Urdu

افغان مہاجرین کے لیے پاکستان کی پالیسی ملکی استحکام اور عالمی اصولوں کے عین مطابق قرار

ترقی یافتہ ممالک اگر پناہ گزینوں کو نکالنے جیسے اقدامات کر سکتے ہیں تو پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے ان اقدامات پر دباؤ میں ڈالنا دوہرا معیار ہے
ترقی یافتہ ممالک اگر پناہ گزینوں کو نکالنے جیسے اقدامات کر سکتے ہیں تو پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے ان اقدامات پر دباؤ میں ڈالنا دوہرا معیار ہے

پاکستان یورپی ممالک کی طرح ملکی استحکام کے لیے پناہ گزینوں کی واپسی کے اقدامات کر رہا ہے

December 23, 2025

یورپ اپنے وسائل، مضبوط اداروں اور اقتصادی طاقت کے باوجود پناہ گزینوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو سنبھالنے میں مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ یورپی ممالک امن وامان اور معاشی استحکام کے باوجود پناہ گزینوں کو نکالنے پر مجبور ہیں۔ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کے لیے بھی پناہ گزینوں کے تحفظ کی عملی حدود موجود ہیں۔

پاکستان یورپی معیار کے مطابق کاربند

یورپ کے ترقی یافتہ ممالک وسائل کے باوجود پناہ گزینوں کی مکمل کفالت نہیں کر سکتے تو پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک سے یہ توقع رکھنا کہ وہ لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی خود کفالت کرے، حقیقت پسندانہ اور زمینی حقائق سے میل نہیں کھاتا۔ پاکستان محدود وسائل، بڑھتی ہوئی آبادی، مہنگائی، بے روزگاری اور دہشت گردی جیسے داخلی چیلنجز کے ساتھ پناہ گزینوں کے اُمور بھی سنبھال رہا ہے۔

پاکستان کی دہائیوں پر محیط پالیسی

پاکستان کئی دہائیوں سے پناہ گزینوں کی میزبانی کرتا چلا آ رہا ہے جس کی مدت اور تسلسل یورپی ممالک سے کہیں زیادہ ہے۔ اس دوران پناہ گزینوں کو ہمیشہ عارضی پناہ دی گئی ہے مستقل قیام نہیں۔ یہی اصول اب یورپ بھی اپنا رہا ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کی پالیسی عالمی معیارات کے مطابق ہے اور کسی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی نہیں۔

خودمختار ریاستوں کو اپنے سرحدی کنٹرول اور پناہ گزینوں کی واپسی کے نفاذ کا حق حاصل ہے۔ یورپی ممالک بھی اسی حق کے تحت پناہ گزینوں کی تعداد کو منظم کر رہے ہیں۔ پاکستان بھی داخلی استحکام اور قومی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے پناہ گزینوں کی واپسی کے اقدامات کر رہا ہے۔

ماہرین کی رائے

ماہرین کے مطابق اگر ترقی یافتہ ممالک پناہ گزینوں کو نکالنے جیسے اقدامات کرسکتے ہیں تو ترقی پذیر ممالک پر اس معاملے میں دباؤ ڈالنا ناانصافی ہوگی۔ پاکستان کی جانب سے پناہ گزینوں کی واپسی عالمی قوانینن کے مطابق ہے اور یہ داخلی استحکام اور انسانی ہمدردی کے توازن کو برقرار رکھنے کی مؤثر حکمت عملی ہے۔

دیکھیں: طالبان کا نظم اور افغانستان کا غیر یقینی مستقبل

متعلقہ مضامین

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کو یمن کے حوثیوں کے خلاف کارروائیوں میں اسرائیلی مدد قبول کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

October 17, 2026

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *